22 اپریل 2013 - 19:30
ویڈیو: ميانمار ميں مسلمانوں پر بدھسٹوں کے حملے

روہنگيا مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند بدہسٹوں کے حملے جاري ہيں اور پوليس خاموش تماشائي کا کردار ادا کر رہي ہے-

ابنا: خبر رساں ايجنسيوں کےمطابق ميانمار کي پوليس مسلمانوں کي مساجد اور سپرمارکيٹوں پر انتہا پسندوں کے حملوں ميں محض تماشائي بني ہوئي ہے- رپورٹوں ميں کہا گيا ہے کہ ميانمار کي پوليس مسلمانوں کے املاک کے خلاف انتہا پسندوں کے حملے روکنے کے بجائے ايک طرف کھڑے ہوکر صرف ان مناظر کي فلميں تيار کرتي ہے جو انہائي حيرت کا باعث ہے- خبر رساں  ايجنسيوں اور انٹر نيٹ سائٹس پر جاري ہونے والي فوٹيج کےمطابق انتہا پسند بدھسٹ مسلمانوں کے خلاف ايک بار پھر خوني حملے کر رہے ہيں- انساني حقوق کے بہت سے کارکنوں  نے يورپي يونين پر الزام لگايا ہے کہ اس نے ميانمار ميں انساني حقوق کي خلاف ورزيوں پر اپني آنکھين بند کر رکھي ہيں- جون دوہزار بارہ ميں مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند بدھسٹوں کے حملوں کي نئ لہر شروع ہوئي ہے  جب سے اب تک سيکڑوں کي تعداد ميں مسلمان جانبحق اور دو لاکھ سے زيادہ بے گھر ہوئے ہيں.

میانمار میں مسلمانوں پر ظلم کی ویڈیو باضمیر افراد کو جگانے کیلئے کافی ہے   

    لندن ... نشریاتی ادارے کو ملنے والی میانمار کی ویڈیو باضمیر افراد کوجگا نے کے لیے کافی ہے.  ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ برما کی پولیس خاموش تماشائی بن کر بدھ بلوائیوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر حملے اور ان کے قتل کو دیکھ رہی ہے۔اس ویڈیو کے آغاز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مسلمان سنار کی دکان پر بدھ بلوائی حملے کر رہے ہیں۔جلاوٴ گھیراوٴ میں پولیس خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ یہ ویڈیو پولیس نے میکتیلا قصبے میں مارچ کے اواخر میں بنائی۔جہاں نسلی فسادات میں 43 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلوائیوں کی ٹولیاں دکانوں اور گھروں کو لوٹ کر نذرِ آتش کر رہی ہیں۔ایک منظر میں واضح طور پر شعلوں میں گھرے ایک شخص کو زمین پر لوٹتے دکھایا گیا ہے ،اورقریب ہی کئی پولیس اہلکار بھی نظر آتے ہیں۔ایک اور منظر میں ایک مسلمان نوجوان کو فرار ہوتے ہوئے ہجوم پکڑ لیتا ہے اورپیٹنا شروع کر دیتا ہے۔ان میں ایک بدھ بھکشو بھی شامل ہوتا ہے۔ اوراس نوجوان پر تلوار کا وار کرتا ہے۔یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب یورپین یونین اس بات کا فیصلہ کرنے جا رہی ہے کہ برما پر سے پابندیاں مستقل طور پر اٹھائی جائیں۔یہ ویڈیو آنگ سان سوچی کے لیے کئی مسائل کھڑے کرسکتی ہے ،۔آج سوموار کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ ایک رپورٹ پیش کرنے والی ہے۔جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ برما کی حکومت رخائن ریاست میں مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہے۔

.......169