ابنا: عالمي بينک کے سربراہ جم يونگ کم نے عالمي مالياتي ٹرائيکا کے اجلاس کے بعد صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے دنيا بھر ميں غربت ميں ہونے والے اضافے پر تشويش کا اظہار کيا ہے- انہوں نے کہا کہ دوہزار تيس تک دنيا سے غربت کے خاتمے کے لئے کوششوں کو تيز اور اس مقصد کے لئے ايک عالمي سياسي ادارہ قائم کرنا ضروري ہوگيا ہے-جم يونگ کم نے کہا کہ عالم بينک اس بات کي کوشش کر رہا ہے کہ سن دوہزار تيس تک دنيا ميں غربت کي شرح کو اکيس في صد سے کم کر کے تين في صد يا اس بھي کم تک لے آئے-انہوں کہا کہ اس مقصد کے لئے بنيادي ڈھانچے کي فراہمي اور مالي ضرورتوں کو پورا کرنے ميں نجي شعبہ اہم کردار ادار کرسکتا ہے-جم يونگ کم نے واضح کيا کہ اقتصادي شرح نمو ميں اضافہ سماجي ہماہنگي کے بغير ممکن نہيں ہے-عالمي بينک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دنيا بھر کے ملکوں ميں فيصلہ کرنے والے ملکوں کو بھوک اور غربت کے خاتمے کے لئے اپنے بجٹ کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور مختص کرنا چاہيے-اس سے پہلے يورپي کميشن نے بھي اپني رپورٹ ميں کہا تھا کہ يورپي ملکوں ميں غربت کي شرح ميں اضافہ ہو رہا ہے- اس رپورٹ کے مطابق يورپي يونين کے ستائيس ملکوں کي کل آبادي پانچ سو ايک ملين نفوس پر مشتمل ہے جس ميں سے سو ملين لوگ غربت کي لکير سے نيچے زندگي گزار رہے ہيں-يورپي ملکوں ميں جاري اقتصادي بحران اور بےروزگاري ميں اضافے نے غربت کي شرح ميں اضافہ کيا ہے-يورپ ملکوں ميں غربت اس حدتک بڑھ گئي ہے کہ بہت سے يورپي عہديداروں نے اس کے سنگين نتائج کے بارے ميں خبردار کرناشروع کرديا ہے-يورپي کميشن نے اس بارے ميں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس براعظم ميں غربت کي شرح ميں ہونے والا اضافہ يورپ کو دوحصوں، غريب اور دولتمند ميں تقسيم کردے جو خطرے کي گھنٹي ہے-رپورٹوں ميں کہا گيا ہے کہ امريکہ ميں بھي غربت کي شرع پندرہ في صد تک پہنچ گئي ہے ليکن امريکي حکمرانوں نے اس پر مکمل خاموشي اختيار کر رکھي ہے-
.....
/169