16 اپریل 2013 - 19:30
تہران میں تیل کی بین الاقوامی نمائش

اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں کل نائب صدر محمد رضا رحیمی ، وزیر پٹرولیم ، وزیر صنعت، معدنیات و تجارت نیز تیل کی صنعت کے حکام اور بعض غیر ملکی سفیروں کی موجودگي میں تیل ، گيس اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی اٹھارویں بین الاقوامی نمائش کا افتتاح ہوا۔

ابنا: توانائی کے ذخائر سے مالامال ملک کی حیثیت سے ایران میں تیل کی نمائش کا انعقاد ایرانی اور غیر ملکی کمپنیوں کے لۓ باہمی تعاون کا سنہری موقع ہے۔ اس نمائش میں ایران اور دوسرے ممالک کی ایک ہزار سے زیادہ کمپنیاں شرکت کررہی ہیں۔ جن ممالک کی کمپنیاں اس نمائش میں حصہ لے رہی ہیں ان میں اٹلی ، جرمنی ، یوکرائن ، روس ، اسپین ، فن لینڈ ، برطانیہ ، جاپان ، ہالینڈ، متحدہ عرب امارات ، جنوبی کوریا، کروشیا ، ترکی، سعودی عرب ، کینیڈا ، آسٹریا، آرمینیا اور جمہوریہ آذربائیجان شامل ہیں۔نائب صدر محمد رضا رحیمی نے نمائش کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ایران کو ضرب لگانے کے مقصد سے اس کے خلاف پابندیوں کا سیلاب بہا دیا گیا لیکن ایرانی حکام اور عوام نے اس سیلاب کو ٹھہرے ہوئے پانی کی صورت میں تبدیل کردیا۔ اور چيلجز کو مواقع میں بدل دیا۔ محمد رضا رحیمی نے مزید کہا کہ مختلف ممالک کو جان لینا چاہۓ کہ ایران واحد ملک ہے جس کے پاس محفوظ توانائی موجود ہے کیونکہ وہ نہ تو مشرق سے وابستہ ہے اور نہ ہی مغرب کے ساتھ۔ اس لۓ ہم چین اور ہندوستان سے کہتے ہیں کہ وہ مغربی ممالک کے ساتھ اپنے آپ کو الجھانے کے بجائے اپنی ضروریات کی توانائی ایران سے درآمد کریں کیونکہ ایران توانائی کی سپلائی کے سلسلے میں دنیا کا محفوظ ترین ملک ہے۔ایران کے وزیر پیٹرولیم رستم قاسمی نے بھی اس نمائش کے افتتاح کے موقع پر مستقبل قریب میں ایران کی تیل کی صنعت کے خود کفیل ہونے کا جشن منائے جانے کی خبر دی اور کہا کہ گزشتہ برس ایران کی تیل کی صنعت میں تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئي۔ قاسمی نے مزید کہا کہ اگرچہ حالیہ برسوں میں ملک کی تیل کی صنعت غیر ملکی کمپنیوں سے وابستہ رہی لیکن حالیہ برسوں کے دوران ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں کی بدولت مستقبل قریب میں تیل کی صنعت کی عدم وابستگی کا جشن منایا جائے گا۔  ایران کے وزیر پیٹرولیم رستم قاسمی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اس وقت ایران کی تیل کی  روزانہ کی پیداوار سات سو ملین مکعب میٹر ہے جبکہ پانچویں ترقیاتی منصوبے کے اختتام تک یہ حجم ایک اعشاریہ چار ارب مکعب میٹر تک  پہنچ جائے گا۔ایران کے وزیر صنعت و معدنیات و تجارت مہدی غضنفری نے بھی اس نمائش کے افتتاح کے موقع پر اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ دشمنوں کی ایران مخالف پابندیوں کے بعد ایران کی برآمدات میں کمی نہیں ہوئي البتہ بعض ممالک کی جگہ دوسرے ممالک نے لے لی۔ سنہ دو ہزار چھ میں ایشیائي ممالک کے ساتھ ایران کی تجارت کاحجم تقریبا بیاسی فیصد اور یورپی ممالک کے ساتھ چودہ فیصد تجارت تھا جبکہ سنہ دو ہزار بارہ میں یورپی ممالک کے ساتھ اس کا لین دین پانچ فیصد اور ایشیاء کے ساتھ بانوے فیصد تک پہنچ گیا۔ غضنفری نے مزید کہا کہ تجارت اپنی ڈگر پر آجائے گی البتہ پابندیوں کی وجہ سے خود یورپی ممالک اپنی منڈی سے محروم ہوگۓ ہیں۔واضح رہے کہ تہران میں لگائي جانے والی بین الاقوامی نمائش چار دن تک جاری رہے گی اور ہر دن کو ایک خاص نام دیا گیا ہے۔ 

.....

/169