14 اپریل 2013 - 19:30
شام میں دہشت گردوں کو امریکہ جنگي ہتھیار،سعودی عرب اور قطر کی مالی امداد

شام میں سرگرم شرپسند دہشت گرد گروہ النصرہ فرنٹ نے القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا ہے۔

ابنا: النصرہ کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے سربراہ سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے اور اب عراق میں سرگرم القاعدہ کے دہشت گرد بڑی تعداد میں شام میں آکر النصرہ کی مدد کریں گے۔

 

النصرہ فرنٹ کو شام میں سرگرم سب سے اہم اور طاقتور دہشت گرد گروہ تصور کیا جاتا ہے اور اس نے کئی چھوٹے چھوٹے سلفی گروہوں کو اپنے ساتھ ملالیا ہے ۔ اس وقت شام میں بشار اسد حکومت کے خلاف جتنی بھی بڑی بڑی کاروائیاں ہورہی ہیں ان کی سرپرستی یہی گروہ کررہا ہے اور اسی کے جنگجو تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہیں۔ اب یہ بات منظر عام پر آچکی ہے کہ اس گروہ کو امریکہ اسرائیل مغربی ممالک سمیت ترکی ، سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک کی بھرپور مالی اور فوجی حمایت حاصل ہے شام کے حوالے سے تو یہ تبصرہ زبان زد خاص و عام ہے کہ شام میں سرگرم دہشت گردوں کو امریکہ جنگي ہتھیار، سعودی عرب اور قطر مالی امداد اور ترکی تربیت اور ٹریننگ کی سہولیات فراہم کررہا ہے۔کہا جارہا ہے کہ سعودی اور قطری سرمائے سے اس گروپ کے پاس ہزاروں کے حساب سے ٹینک اور جدید ہتھیار موجود ہیںافغانستان میں جب القاعدہ اور طالبان نے امریکی مفاد میں روس کے خلاف چھاپہ مار جنگ کا آغاز کیا تو اس وقت بھی بہت سے آگاہ حلقوں کا یہی تبصرہ تھا کہ القاعدہ امریکی ایما اور امریکی اشاروں پر امریکہ کے نمبر ون دشمن سویت یونین کے خلاف نبردآزما ہے تا ہم اس وقت بہت سے لوگ اسے ایک اسلامی ملک کا دفاع اور مقدس جہاد کا نام دیتے تھے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت بعض عرب ممالک اس وقت بھی القاعدہ اور طالبان کے زبردست حامی تھے اور انکی دامے درمے سخنے مدد کررہے تھے ۔ سویت یونین کی افغانستان سے واپسی اور سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد امریکہ نے اپنے نئے دشمن تراشے لیکن طالبان اور القاعدہ سے اپنے قریبی تعلق کو برقرار رکھا ۔اسکے بعد سے لیکر آج تک القاعدہ نے عالمی سطح پر جو کاروائیاں بھی انجام دیں اسکا بالواسطہ یا بلاواسطہ فائدہ امریکہ کو ہی پہنچا ۔ عرب ممالک میں جب اسلامی اور عوامی بیداری کا سلسلہ شروع ہوا تو امریکہ نے اسی آڑ میں اسرائيل کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ اور فلسطین مخالف جہادی تنظیموں کے مرکز شام کو اپنا ہدف قرار دیا۔امریکہ بشار اسد کے خلاف تحریک کو انہی تحریکوں کا حصّہ اور تسلسل قرار دینا چاہتا تھا جو مصر ، تیونس اور لیبیا میں شروع ہوئی تھیں ۔ دنیا بھر سے مذہبی جنونیوں کو اسلام اور جہاد کے نام پر شام میں جمع کیا گيا اور بشار اسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کی سازش پر عمل درآمد شروع کردیا گيا۔شروع شروع میں مختلف ناموں سے سلفی اور وہابی گروہ ترکی کے راستے شام میں داخل ہوگئے اور داخلی جنگ کا آغاز کیا گيا ۔ بشار اسد نے بھی عوامی اور فوجی محاذ پر اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا۔ بشار اسد نے جہاں دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے کےلئے فوج کو میدان میں اتارا وہاں سیاسی اصلاحات اور انتخابات کے عمل کو بھی جاری رکھا ۔ مصر، تیونس اور لیبیا میں جب انقلاب کامیاب ہوئے تو رائے عامہ کی توجہ شام کی طرف مبذول ہوگئی ۔ آغاز میں عام لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ شام میں جاری تحریک اسی اسلامی بیداری کا حصّہ ہے جسکا بنیادی نعرہ امریکہ اور اسرائيل دشمنی ہے لیکن جب شام کے حالات کا جائزہ لیا گیا تو صورت حال بلکہ جدا نظر آئی یہاں پر جہاد کے نام پر بشار اسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنے والی قوتوں کے پیچھے امریکہ ، اسرائیل اور اسکے عرب اتحادی نظر آئے اور بشار اسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے القاعدہ جیسے گروہوں سے استفادہ کیا جارہا تھا جبکہ دوسری طرف اسرائیل کے مقابلے میں ایک مضبوط و مستحکم قلعے شام میں دراڑیں ڈالی جا رہی تھیں ۔ امریکہ نے اس ہدف کے حصول کے لئے اپنے تمام علاقائی اتحادیوں کو اپنے ساتھ ملایا اور شام کی حکومت کے خلاف مسلح جنگ کو تیز تر کردیا  ۔ آج اگر شام میں سرگرم عمل النصرہ گروہ اور القاعدہ کے درمیان اتحاد و اتفاق کی رپورٹیں اور القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری سے انکے اظہار عقیدت کی خبریں عام ہیں تو اس پر تعجب نہیں کرنا چاہیے کیونکہ دونوں کی اصل اور بنیاد ایک ہے صرف  سرزمین اور ملک کا فرق ہے ورنہ مقصد اور اھداف ایک ہیں یہاں پر اگر اسرائيل اور شام کے نام نہاد مجاہدین کے درمیان  موجود دلی ہمدردی کا ذکر نہ کیا جائے تو اسرائیل النصرہ دوستی پر ظلم ہوگا۔اسرائیل نے بشار اسد کے مخالف جنگ لڑنے والے زخمیوں کی فوری امداد کے لئے شام کے سرحدی علاقے جولان پر تمام تر سہولیات سے آراستہ ہسپتال بنادئے ہیں تا کہ زخمیوں کو علاج کے لئے دور دراز کا سفر نہ کرنا پڑے آج بشار اسد کے خلاف برسر پیکار نام نہاد سلفی مجاہدین اسرائیل مخالف ایک مضبوط حکومت کو گرانے کے لئے جان کی بازي لگا رہے ہیں اور اس کار خیر میں زخمی ہونے والوں کے لئے غاصب صہیونی ریاست علاج معالجہ  کی سہولیات فراہم کررہی ہے ۔ اسرائيل کے دشمن بشار اسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے لئےسعودی عرب ، قطر اور ترکی بھی کسی سے پیچھے نہیں ۔ قطر نے تو اسرائیل کی اسقدر حمایت کی ہے کہ اسرائيلی حکام با بانگ دہل یہ بات کہہ رہے ہیں کہ قطر کے اسرائيل پر جو احسانات ہیں اور قطر نے صہیونی ریاست کی جتنی مدد کی ہے اسکا کوئي اور مقابلہ بھی نہیں کرسکتا ۔

.......

/169