ابنا: اخبار حریت کےممتاز تجزیہ نگار ڈاکٹر نورا مرت نے کہا ہے کہ شام کے بحران کو دوسال گزرچکے ہیں ترکی ، سعودی عرب، قطر اور امریکہ کے غلط منصوبے کےمطابق شام میں شدید انسانی المیہ رونما ہوا ہے لیکن شام کے بارے میں مغرب نوازعربی اور مغربی ممالک کے تمام اندازے غلط ثابت ہوگئے ہیں۔ ترک تجزيہ نگار کے مطابق سعودی عرب ، قطر، ترکی نے امریکہ کے ساتھ ملکر لیبیا کی طرح شام کی حکومت کو گرانے کی کوشش شروع کی اور اس سلسلے میں انھوں نے کئي عرب ممالک کے دہشت گردوں کو بھی اپنی مٹھی میں لیکر جمع کیا اور انھیں مسلح کرکے شام روانہ کردیا اور شام میں موجود القاعدہ کے دہشت گردوں اور آزاد شامی فورس کے ساتھ انھیں ملادیا اور شام کے صدر بشار اسد کی حکومت کو گرانے کے لئے مغربی اور عربی ممالک نے اپنی تمام قوت صرف کردی لیکن شام کی حکومت اپنی جگہ پر قائم ہے جبکہ عربی اور مغربی منصوبے سے شامی عوام کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ ترک تجزيہ نگار کے مطابق شام میں مغرب نواز عرب ممالک اور امریکہ کا منصوبہ ناکام ہوگيا ہے اور شامی حکومت کے مخالفین میں بھی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ترک تجزيہ نگار کے مطابق شام علاقہ کا اہم اور مضبوط ملک ہے جس نے حزب اللہ لبنان اور حماس کی حمایت کرکے اسرائیل کو تاریخی شکست سے دوچار کیا اور امریکہ اور اس کے حامی عرب ممالک اسرائيل کی شکست کا انتقام لینے کے لئے شام کے خلاف متحد ہوگئے لیکن انھیں شام کے خلاف اس وقت زبردست شکست اور ناکامی کا سامنا ہے۔ ترک تجزیہ نگار کے مطابق ترک حکومت نے شام کے بارے میں اچھا کردار ادا نہیں کیا ترک حکومت نے وہ کام کیا جو امریکہ چاہتا تھا اور ترک حکام کی یہی سب سے بڑی غلطی ہے کہ وہ دوسروں کے آلہ کار بن گئے۔
.....
/169