ابنا: صدارتی پریس نوٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے ساتھہ ٹیلی فونی گفتگو میں نیو یارک میں تخفیف اسلحہ کانفرنس میں ہتھیاروں کی عدم تجارت کے معاہدے کی منظوری کے ساتھہ اسلامی جمہوریہ ایران کی موافقت پر مبنی بان کی مون کی درخواست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اغیار کے حملے کا شکار ہونے والے ملک کے عنوان سے دھشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور تہران اصولی طور پر اس معاہدے کی حمایت کرتا ہے ۔ صدر مملکت احمدی نژاد نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا میں ہتھیاروں کی تجارت کے کنٹرول کا خواہاں اور عالمی سطح پر اس کو کنٹرول کئے جانے کا مطالبہ کرتا ہے، مزید کہا کہ ہتھیاروں کی تجارت کا مسئلہ دنیا میں دہشتگردی اور جنگوں کے فروغ کا باعث ہے اور ہتھیاروں کی تجارت اور اس کی غیر قانونی منتقلی کی روک تھام عالمی سلامتی میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اس ٹیلی فونی گفتگو میں تخفیف اسلحہ کانفرنس کو ہتھیاروں کی تجارت کی روک تھام کے معاہدے کی منظوری کے لئے مناسب موقع قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ دنیا میں امن سلامتی کی برقراری میں نہایت ہی مفید واقع ہوسکتا ہے۔
..........
/242
..........
/242