24 مارچ 2013 - 19:30

پاکستان کےسابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو پاکستان آتے ہی مسائل و مشکلات کا سامنا کےنا پڑ رہا ہے۔

ابنا: اسلام آباد سے رپورٹ کے مطابق ۔ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کی جانب سے ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف لال مسجد آپریشن کے مرکزی ملزم ہیں، انہیں لال مسجد تحقیقاتی کمیشن نے کئی بار طلب کیامگر وہ پیش نہ ہوئے، لال مسجد کمیشن میں جس نے بھی بیان ریکارڈ کرایا اس نے پرویز مشرف کو ذمہ دار ٹھہرایا لہذا استدعا کی جاتی ہے کہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے۔واضح رہے کہ آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف ساڑھے چار سالہ جلاوطنی کے بعد کل اتوار کوبالآخر پاکستان پہنچ گئے۔ ان کی آمد کے سبب ائیر پورٹ اور اطراف میں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے ، سابق صدر کو دو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئیں جبکہ ان کی حفاظت کیلئے پچاس کمانڈوز تعینات تھے تاہم ٹرمینل ون کے باہراپنے حامیوں سے مختصر خطاب کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، اپنی جان خطرے میں ڈال کر پاکستان بچانے آیا ہوں، پاکستان ایسا نہیں رہا جیسا چھوڑ کر گیا تھا ، حکمرانوں نے ملک کو اندھیرے میں دھکیل دیا، فوجی ہوں، کسی سے گھبرانے والا نہیں اور نہ ہی قتل کی دھمکیوں سے ڈرتا ہوں، اب پاکستان میں ہی رہوں گا، آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے، کراچی کسی ایک قوم کا نہیں ، کراچی کو امن کا گہوارہ بناوٴں گا ،پرویز مشرف نے کہا کہ آج پاکستان میں پہلے دن اپنی سیاست کا آغا ز کر رہا ہوں لیکن پہلے دن ہی رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دی گئیں اور ان کے مزار قائدپر ہونے والے جلسہ کو سبوتاژ کر دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ 23 مارچ کو نعرہ لگایا گیا تھا کہ بنا کے رہیں گے پاکستان اور آج وہ یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ بچا کے رہیں گے پاکستان۔......./169