14 مارچ 2013 - 20:30

اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی کی حال حاضر میں دنیا کے چھ ملکوں میں نمائندگی پائی جاتی ہے اور ۱۱۵ اسلامی ممالک کے ساتھ اس کے روابط ہیں۔

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سیستان و بلوچستان میں اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کی نمائندگی نے اسمبلی کے سیکریٹری جنرل، سیستان و بلوچستان میں نمائندہ ولی فقیہ اور صوبہ کے دیگر سیاسی عہدہ داروں کی موجودگی میں گزشتہ روز ۱۴ مارچ کو رسمی طور پر تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ کل جمعرات کو اس مناسبت سے منعقدہ پروگرام میں اسمبلی کے سیکریٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین جناب اختری صاحب نے اپنے خطاب میں کہا: اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کسی ایک فرقہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ تمام مسلمانوں سے متعلق ہے۔ اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے اس صوبہ میں اسمبلی کی نمائندگی کی تاسیس کا مقصد ایجاد وحدت، تقریب مذاہب اور مذہبی اختلافات کو دور کرنے کو بیان کرتے ہوئے کہا: اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی کی حال حاضر میں دنیا کے چھ ملکوں میں نمائندگی پائی جاتی ہے اور ۱۱۵ اسلامی ممالک کے ساتھ اس کے روابط ہیں۔انہوں نے مزید کہا: افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اسلامی فرقوں کی ایک دوسرے کی نسبت عدم شناخت اس بات کا باعث بنتی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر ناروا تہمتیں لگائیں۔ اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی یہ کوشش کرتی ہے کہ اسلامی فرقوں کو مذہب تشیع سے آشنا کر کے انہیں شیعوں کے قریب کرنے اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے کے لیے آمادہ کرے۔حجۃ الاسلام و المسلمین اختری صاحب نے کہا: اسی مقصد کے پیش نظر اسمبلی نے دنیا کے ۵۴ ممالک میں تعلیمات قرآنی اور معارف اہلبیت(ع) کو نشر کرنے میں قدم اٹھایا ہے۔اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے کہا: اسمبلی کی تلاش و کوشش ہے کہ اہلبیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کو تقریبی فکر دے کر مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کی طرف راغب کرے۔انہوں نے عالمی اسکتبار کے اسلام دشمن منصوبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دشمنان اسلام مخصوصا عالمی اسکتبار کی پوری کوشش ہے کہ مسلمانوں کے درمیان رخنہ ڈال کر انہیں ایک دوسرے سے دور کریں، لہذا ان کے برے مقاصد کو نقش بر آب کرنے کے لیے مذہبی وحدت کو مضبوط کرنے کی راہ میں حرکت کرنا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242