11 مارچ 2013 - 13:32

قائد ملت جعفریہ پاکستان: اسلامی تحریک پاکستان ملکی سیاست میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے آنے والے الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی اور اس کے لئے مرکزی پارلیمانی بورڈ نے کام کا آغاز کردیا ہے

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ قومی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے ' سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے مرکزی پارلیمانی بورڈ کام کر رہا ہے' ماضی میں بھی عوام کی اکثریت نے ہمارے کہنے پر انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کیا اور اب بھی مختلف حلقوں میں فیصلہ کن کردار ادا کیا جائے' بادامی باغ کا سانحہ افسوسناک ہے اقلیتی برادری کے گھروں کو جلانا غیر اسلامی فعل ہے '  اہل منبر تشیع کے عقائد و نظریات کو مصفی و منقی کرکے عوام کے سامنے پیش کریں' ملک کو درپیش چیلنجز میں سے سب سے بنیادی اور اہم ترین بدامنی' دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ ہے '  معصوم اور بے گناہ عوام کا قتل عام تسلسل کے ساتھ جاری ہے' سانحہ علمدار روڈ کوئٹہ کے چند روز بعد سانحہ ہزارہ ٹائون اور اب سانحہ عباس ٹائون ریاست پر سوالیہ نشان ہیں' تعجب ہے کہ سانحات کے حقائق عوام سے کیوں پوشیدہ رکھے جارہے ہیں؟ مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناخت کرکے ذبح کرنا' مساجد ' امام بارگاہوں' تجارتی مراکز' سرکاری ونجی املاک' سکولوں اور حساس مقامات کو نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے' ملک پر عملاً دہشت گردوں کی حکمرانی ہے' دہشت گردی کے مراکز اور منابع کو ختم کرنے اور انکے سرپرستوں کو بے نقاب کرنے میں کیا امر مانع ہے؟

ان خیالات کا اظہار مدرسہ زینبیہ چکری روڈ راولپنڈی میں منعقدہ فہم دین سمپوزیم سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ دین و مکتب کو اس کے اصلی مصادر کے ساتھ علمی انداز میں بیان کرنا عصر حاضر کی اہم ترین ضرورت ہے اور اہل منبر پر لازم ہے کہ وہ دین حقہ کے عقائد و نظریات کو مصفی و منفقی کرکے عوام کے سامنے پیش کریں کیونکہ ایک سازش کے تحت دین اسلام کا حقیقی چہرہ مسخ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے دوری اختیار کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ گذشتہ دنوں بادامی باغ لاہور کا سانحہ بھی انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی تحریک پاکستان ملکی سیاست میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے آنے والے الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی اور اس کے لئے مرکزی پارلیمانی بورڈ نے کام کا آغاز کردیا ہے  ۔ماضی میں ہم نے انتخابات میں بھرپور کردار ادا کیا اور اب بھی عوام کی اکثریت ہماری کال پر فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

علامہ ساجد نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اس وقت ملک کو درپیش چیلنجز میں سے سب سے اہم ترین مسئلہ بدامنی' دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ ہے۔ ریاست نے مجھ سے اور میرے آباء و اجداد سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائے گی مگر سانحہ علمدار' سانحہ ہزارہ ٹائون ' سانحہ مستونگ' سانحہ چلاس' سانحہ کوہستان اور دیگر سانحات سے واضح ہوگیا کہ ریاست مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ تو ان سانحات کے حقائق سے پردہ اٹھایا جارہا ہے اور اصل حقائق عوام کو بتانے سے گریز کیا جارہا ہے اور نہ ہی قاتلوں اور انکے سرپرستوں کو بے نقاب کرکے تختہ دار پر لٹکایا جارہا ہے۔
...........
/242