ابنا: امریکی دباو کے باوجود ایران کے سرحدی علاقے میں پاکستان کے لئے گیس پائپ لائن کی تعمیر کے تاریخی منصوبے کا دونوں ممالک کے صدور آج سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ایران سے یومیہ 75کروڑ مکعب فیٹ گیس کی درآمد کیلئے دونوں ممالک کے صدور ایران میں پاک ایران بارڈر گبد کے مقام پر گیس پائپ لائن کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھیں گے، ایرانی کمپنی تدبیر پاک ایران بارڈر سے پاکستان میں نواب شاہ تک 781 کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کرے گی، امریکہ کی طرف سے اس منصوبے پر متعدد بار تحفظات کا اظہار کیا گیا، جس میں امریکہ نے کئی بار ایران پر عائد عالمی پابندیوں کا ذکر کیا اور پاکستان کیلئے ترکمانستان سے گیس درآمد کیلئے بڑا حامی ہونے کا دعویٰ بھی کیا، ہماری پالیسی بڑی واضح ہے، ہم ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا پائپ لائن کے بڑے حامی ہی ہیں۔ گذشتہ سال اس حوالے سے گیس کی خرید و فروخت کا معاہدہ ایک سنگ میل تھا، امریکہ کے تحفظات اپنی جگہ لیکن پاکستان کی توانائی کی ضروریات کے پیش نظر ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر پاکستان بھی کسی امریکی دباو کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں، اس منصوبے پر کسی بھی امریکی پابندی کے سوال پر وزیر اعظم کے مشیر برائے پٹرولیم کا جواب بڑا ہی واضح ہے۔ گیس پائپ لائن کی تعمیر کے بعد دسمبر 2014ء تک پاکستان کو گیس ملنا شروع ہو جائے گی، مشیر پٹرولیم کا کہنا ہے کہ آج پاکستان اور ایران کے صدور گوادر میں یومیہ چار لاکھ بیرل صلاحیت کی آئل ریفائنری کے معاہدے پر بھی دستخط کریں گے۔
دیگر ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری پیر کے روز ایرانی ہم منصب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے ہمراہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح کریں گے، پندرہ ماہ میں مکمل ہونے والے اس منصوبے سے پاکستان کو یومیہ پچھہتر کروڑ کیوبک فٹ گیس دستیاب ہوگی۔ پاک ایران سرحد پر منعقد ہونے والی اس تقریب میں شرکت کے لئے صدر آصف علی زرداری پیر کو ایران جائیں گے۔ تقریب میں شرکت کے لئے آٹھ ممالک کے رہنماؤں کو دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔ وسط ایشیائی ممالک، گلف کوآپریشن کونسل اور چین کو بھی دعوت دی گئی ہے۔ اس گیس منصوبے سے پاکستان میں چار ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے میں مدد ملے گی اور اس منصوبے پر عملدرآمد سے مجموعی طور پر دو ہزار ایک سو انتالیس ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ گیس پائپ لائن کی تعمیر ایرانی کمپنی تدبیر، سوئی نادرن، سوئی سدرن اور ایف ڈبلیو او کریں گی جس کے لیے ایران پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالر قرضہ بھی دے گا۔
.....
/169