ابنا: پاکستانی ذرائع کے مطابق توہین رسالت کےملزم کی عدم گرفتاری کے خلاف تین ہزار سے زائد مشتعل افراد نے لاہور کے علاقے بادامی باغ نور محلہ جوزف کالونی کا محاصرہ کرکے مسیحی افراد کے گھروں کو آگ لگادی اور متعدد موٹرسائیکلیں و رکشے بھی جلادیے۔ رپورٹ کے مطابق مظاہرین کو روکنے کی کوشش پر پولیس افسران اور متعدد اہلکار بھی پتھراؤ کی زد میں آکر زخمی ہوئے ہیں جبکہ مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے پولیس کی ناکامی کے بعد مقامی عوامی نمائندوں سمیت علماءکی کثیر تعداد وہاں پہنچ گئی جنہوں نے بڑی منت سماجت کے بعد مظاہرین کو منتشر کیا۔
ادھر بادامی باغ پولیس نے توہین رسالت کرنے کے الزام میں ساون مسیح نامی 26سالہ نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے حراست میں لے لیا ہے تاہم اس کی گرفتاری کا مقام خفیہ رکھا گیا ہے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بادامی باغ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ اپنے بیان میں پاکستان کے صدر نے مسیحی واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائیگی، مسیحی برادری کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، پنجاب حکومت واقعے کی تحقیقات کرکے حملہ آوروں کو کیفرکردار تک پہنچائے، اقلیتوں کے خلاف اس قسم کے اقدامات سے پاکستان کا تصور مجروح ہوتا ہے، پاکستان کا چہرہ دنیا میں خراب کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
ادھر پاکستان کے وزیراعظم نے بھی ہدایت کی کہ بادامی باغ جیسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
رپورٹ کے مطابق بادامی باغ واقعہ میں ملوث 42 مبینہ مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز رائے طاہر کے مطابق مبینہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاﺅن جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242
ادھر بادامی باغ پولیس نے توہین رسالت کرنے کے الزام میں ساون مسیح نامی 26سالہ نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے حراست میں لے لیا ہے تاہم اس کی گرفتاری کا مقام خفیہ رکھا گیا ہے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بادامی باغ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ اپنے بیان میں پاکستان کے صدر نے مسیحی واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائیگی، مسیحی برادری کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، پنجاب حکومت واقعے کی تحقیقات کرکے حملہ آوروں کو کیفرکردار تک پہنچائے، اقلیتوں کے خلاف اس قسم کے اقدامات سے پاکستان کا تصور مجروح ہوتا ہے، پاکستان کا چہرہ دنیا میں خراب کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
ادھر پاکستان کے وزیراعظم نے بھی ہدایت کی کہ بادامی باغ جیسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
رپورٹ کے مطابق بادامی باغ واقعہ میں ملوث 42 مبینہ مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز رائے طاہر کے مطابق مبینہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاﺅن جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242