26 فروری 2013 - 20:30

قم کے ایک مرجع تقلید آیت اللہ مکارم شیرازی نے علاقے کی حکومتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہی حکومت باقی رہ سکتی ہے جو لوگوں کی حکومت ہو اگر تمہاری پایگاہ امریکہ اور اسرائیل ہیں کہ ہیں تو مطمئن رہیں ایک دن قذافی کی طرح وہ تمہاری تلاش میں بھی آئیں گے۔

اہلبیت نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے آج اپنے درس خارج کے ابتدا میں بعض عربی اور غیر عربی ملکوں کے حکمرانوں کے رویہ کو محکوم کیا۔انہوں نے کہا: بعض حکومتیں ایک دوسرے سے مل کر اس تلاش میں لگی ہیں کہ شام کی حکومت کو گرائیں شام کے لیے پروپیگنڈہ تیار کر رہی ہیں آج شام کے پیچھے ہیں کل عراق کے پیچھے لگ جائیں گی۔ ان کی پشت پناہ اور پایگاہ استکباری طاقتیں ہیں۔انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ یہ حکومتیں عوامی حکومتیں نہیں ہیں بلکہ وہ امریکہ اور استکبار کے بل بوتے پر ٹکی ہوئی ہیں کہا: کیا یہ آنکھیں کھول کر نہیں دیکھ رہی ہیں؟ کیا انہوں نے ان حکمرانوں کی سرنوشت کو نہیں دیکھا جو کل تک امریکہ کی کٹھ پتلی تھیں اور امریکہ نے کس طریقہ سے انہیں نابود کیا۔آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا: قذافی ایک زمانے میں امریکہ کا محبوب ترین شخص تھا یورپی حکام اس کے ساتھ یادگاری کے طور پر فوٹو لیتے تھے لیکن جونہی دیکھا کہ اب حالات بدل رہے ہیں اب وہ ہمارے کام نہیں آسکتا تو ایسے اسے گرایا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اس کی نابودی کے لیے خود انہوں نے اپنی فوجیں بھیجیں۔حوزہ علمیہ قم کے استاد نے کہا: یہ سرانجام تم سب حکمرانوں کے لیے ہے کیوں اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے؟ انہوں نے قذافی پر رحم نہیں کیا یقینا تمہارے اوپر بھی رحم نہیں کریں گے  ہمیں تعجب ہوتا ہے یہ کیوں درس عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ادھر سے اپنے آپ کو بڑا عقلمند سمجھتے ہیں حالانکہ عقل نام کی کوئی چیز ان کے پاس نہیں ہے اگر ہوتی تو ان واقعات سے عبرت لیتے۔انہوں نے بیان کیا: وہ حکومتیں باقی رہ سکتی ہیں جو عوامی ہوں جو لوگوں کی ہو۔ اگر تمہاری پایگاہ امریکہ اور اسرائیل ہیں کہ ہیں تو مطمئن رہیں قذافی کی طرح ایک دن تمہاری تلاش میں بھی آئیں گے۔آیت اللہ مکارم شیرازی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی لوگوں کی جانب سے حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: چونتیس سال ہو گئے ہیں امریکہ اسرائیل اور دیگر استکباری طاقتیں طرح طرح کہ پرپیگنڈوں، اقتصادی پابندیوں اور ثقافتی یلغاروں کے ذریعہ ہمارے ملک کو دبانے کی کوشش کر رہیں ہیں  لیکن کامیاب نہیں ہو سکیں چونکہ اس انقلاب کے پیچھے خود لوگ ہیں۔انہوں نے کہا: دنیا میں سوائے ایران کے کوئی ایسی حکومت نہیں ہے جس کے خلاف عالمی استکبار اپنا سارا سرمایہ لگا رہا ہو لیکن ہمارے لوگ الحمد للہ اس کی پشت پناہ ہیں اور ۲۲ بہمن کے دن سب نے مشاہدہ کر لیا کہ لوگ اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود میدانوں میں نکل آئے اور اس نظام کا دفاع کیا اور اس نظام جس کے پیچھے لوگ ہیں کوئی بھی اسے ہلا نہیں سکتا۔ لیکن ہمیں لوگوں کی مشکلات کو حل کر کے ان کی حمایت کو مضبوط بنانا چاہیے۔