ابنا: افضل گورو کی پھانسی کے خلاف 10 روزہ کشیدگی کے بعد ابھی حالات معمول پر نہیں آنے پائے تھے کہ آج ہندوستان زیر انتظام کشمیر کے بعض اضلاع میں پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں، جنوبی ضلع کولگام میں اُس وقت صورتحال انتہائی کشیدہ ہوئے جب چڈر دیہات میں فوجی محاصرے کے دوران 45 سالہ بیوہ خاتون کی موت کے خلاف احتجاج کررہے مظاہرین پر بھارتی فورسز نے لاٹھی چارج، ٹیر گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں ایک درجن فورسز اہلکار اور 2 صحافیوں سمیت 2 درجن سے زیادہ افراد مضروب ہوئے، جس کے بعد وہاں کے حساس علاقوں میں سکیورٹی پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں، مظاہرین کا الزام ہے کہ فوج اور پولیس نے نذیرہ بیگم کے گھر میں اتوار کی شب چھاپہ مارا اور انییں جان سے مار دیا کردیا، لیکن مظاہرین نے کہا کہ چھاپہ مارنے والے فوجی اہلکاروں نے نذیرہ بیگم پر تشدد کیا جس سے ان کی موت ہوگئی، انہوں نے مجسٹریٹ سطح کی تحقیقات اور فوج اور پولیس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے، سینکڑوں مظاہرین نے جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کی رہنے والی 45 سالہ بیوہ نذیرہ بیگم کی لاش لے کر جلوس نکالا اور ضلع کی بڑی شاہراہ پر دن بھر دھرنا دیا، دریں اثناء کولگام کے نزدیکی ضلع پلوامہ میں آج صبح مُورن اور راج پورہ بستیوں میں مقامی نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کیے جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوئے، پلوامہ کے اکثر بازار بند ہیں اور ضلع میں بھارتی فوج اور پولیس مشترکہ گشت کررہے تھے۔
18 فروری 2013 - 20:30
News ID: 392319
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں افضل گورو کی پھانسی کے خلاف دسویں روز بھی احتجاجی مظاہرے جاری، فوجی محاصرے کے دوران 45 سالہ بیوہ خاتون کی موت، مظاہرین پر بھارتی فورسز نے لاٹھی چارج، ٹیر گیس کا استعمال،