ابنا: علی لاریجانی نے آج کہا کہ امریکہ ایک طرف اسلامی جمہوریہ ایران پر پابندیاں عائد کررہا ہے جبکہ دوسری طرف مذاکرات کی تجویز پیش کرکے ایرانی عوام کو یہ کہنا چاہتا ہے کہ مذاکرات سے پابندیاں ختم ہوجائیں گی جبکہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ابتک ہونیوالے مذاکرات کو ناکام کرنے میں امریکی حکام کا اہم کردار رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکہ ، مذاکرات کی تجویز پیش کرکے ایرانی عوام کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے کہا کہ امریکہ، ایرانی عوام کے خلاف اپنے مخاصمانہ رویوں سے ہرگز باز نہیں آئے گا اور ہم یہ نہیں بھولیں گے کہ امریکی صدرنے افغانستان پر حملے کا وقت کس طرح ایران کو شرارت کا محور قرار دیا۔
انہوں نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مابین مذاکرات کی تاریخ قریب آنے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں مجوزہ مذاکرات ،صرف این پی ٹی اور بین الاقوامی ایٹمی اینرجی کے معاہدوں کے تحت ہونے چاہیئں۔