15 فروری 2013 - 20:30

کراچی: شہر آج بھی لہو رنگ ہے اور قاتل بے دریغ موت بانٹتے پھر رہے ہیں۔ گھر اجڑ رہے ہیں اور جنازے اٹھ رہے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں کے باوجود ہلاکتوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

ابنا: کراچی میں فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں دلہا ، پولیس اہلکار اور دو بھائیوں سمیت دس افراد کی جان لے لی گئی۔ گلستان جوہر رابعہ سٹی میں رینجرز اور پولیس کمانڈوز کی بھاری نفری نے آپریشن کرکے دس افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ بتیس سالہ سمیع اللہ  جو صبح سویرے ملازمت کے لئے گھر سے نکلا تھا ۔۔ مگر دہشت گردوں نے اس کی جان لے لی ۔۔ سمیع اللہ کو سائٹ ایریا ولیکا اسپتال کے قریب گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ۔۔ اس کی لاش جناح اسپتال کے مردہ خانے میں رکھی گئی۔ مقتول سمیع اللہ ایک بیٹا کا باپ اور میڈیسن کمپنی میں کام کرتا تھا ۔۔  کورنگی انڈسٹریل ایریا میں دارالعلوم روڈ پرتین بچوں کے باپ سالہ اصغرکو ٹارگٹ کرکے قتل کیا گیا ۔۔ مقتول لانڈھی شیرپاو کالونی کا رہائشی تھا ۔۔

کورنگی مہران ٹاون میں دو بھائی سیف زادہ اور بخت زادہ کی جان لی گئی ۔۔ بیس روز قبل بھی ان کے ایک بھائی خلیل زادہ کو قتل کیا گیا تھا ۔۔ پولیس نے واقعے کو ذاتی دشمنی کے کھاتے میں ڈال دیا ہے ۔ اورنگی ٹاون قصبہ کالونی کے بلوچ گوٹھ میں 50 سالہ سید انصارحسین جعفری کو ابدی نیند سلایا گیا ۔۔ کورنگی نمبر چھ اور لانڈھی فیوچر موڑ کے قریب دو افراد کو قتل کردیا گیا ۔ کورنگی پلیا کے قریب دہشت گردوں نے دو پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ۔۔ جس سے ایک اہلکار بشیر جاں بحق ہوگیا ۔ مقتول عوامی کالونی تھانے میں تعینات تھا ۔ کھوکھراپار میں فائرنگ سے زخمی ہونے والا ابراھیم دوران علاج دم توڑ گیا ۔۔ سرجانی ٹاون سے تشدد زدہ اور مچھر کالونی میں نالے سے چارسالہ بچے کی لاش ملی ۔ ادھر گلستان جوہر کے علاقے رابعہ سٹی میں رینجرز اورکمانڈوز سمیت پولیس کی بھاری نفری نے آپریشن کیا ۔۔ دو گھنٹے آپریشن کے بعد دس افراد کو حراست میں لے لیا گیا ۔ رینجرز نے اورنگی ٹائون میں ٹارگٹڈ آپریشن کیا اور ایک اہم ملزم سمیت متعدد افراد کو گرفتار کرلیا ۔۔ سماء

 .......

/169