15 فروری 2013 - 20:30

یورپی ممالک خصوصا امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی سنہ انیس سو اڑتالیس میں ناجائز طور پر اسرائيل کے وجود میں آنے کے اعلان کے بعد سے ہی اس ناجائز حکومت کی حمایت کرتے چلے آرہے ہیں اور وہ اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات پر اعتراض کرنے والوں کا سخت نوٹس لیتے رہے ہیں۔

ابنا: اس سلسلے میں رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کے ایک رکن ڈیوڈ وارڈ  کا مواخذہ کیا گيا ہے۔ ڈیوڈ وارڈ نے کا تعلق برطانیہ کی لیبرل پارٹی سے ہے۔ اس نے اپنے وبلاگ میں لکھا تھا کہ مجھے ہولوکاسٹ کے زمانے میں یہودیوں کے ساتھ پیش آنے والے ناقابل یقین واقعات کی وجہ سے بہت تکلیف ہوتی ہے لیکن یہ بات میرے لۓ حیران کن ہے کہ یہودی اس قدر مظالم کا شکار ہونےاور ہولوکاسٹ کے واقعے کے چند برسوں کے بعد ایک اور سطح پر اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر اس قدر مظالم کیسے جاری رکھ سکتے ہیں۔ ڈیوڈ وارڈ   نے مزید لکھا ہے کہ اس کا ارادہ یہودیوں کی توہین کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد فلسطینیوں سے متعلق اسرائیل کی کارکردگی پر تنقید کرنا ہے۔ ڈیوڈ وارڈ  کے اس وبلاگ کے بعد لبرل پارٹی کے رہنماؤں نے اسے طلب کر کے  اس سے بازپرس کی۔ ان رہنماؤں نے ڈیوڈ وارڈ   کے افکار و نظریات کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ مختلف تنظیموں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس کے ساتھ سختی برتی جائے ۔ ڈیوڈ وارڈ   کو صیہونی لابی کی جانب سے شدید دباؤ اور تنقید کۓ جانے کے بعد اپنے بیانات کے سلسلے میں مجبورا معافی مانگنی پڑی۔
امریکہ اور یورپ کے بعض ممالک منجملہ برطانیہ ، جرمنی اور فرانس ہمیشہ صیہونی حکومت کے حامی رہے ہیں اور انھوں نے نہ صرف  مالی ، اقتصادی ، اسلحہ جاتی اور ایٹمی میدانوں میں اس حکومت کی مدد کی ہے بلکہ غزہ پر صیہونی فوج کے حملوں اور غاصبانہ اقدامات کی بھی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ بعض یورپی ممالک میں ایسے قوانین بھی منظور کۓ گۓ ہیں جن کے مطابق ہولوکاسٹ کے آگے سوالیہ نشان نہیں لگایا جا سکتا ہے۔ اس وقت بہت سے یورپی ممالک میں ہولوکاسٹ کا انکار یا اسے مبالغہ آمیز قرار دینا جرم سمجھا جاتا ہے۔ جن یورپی ممالک میں ہولوکاسٹ کے منکرین کے لۓ سزا پر مبنی قوانین بنائے گۓ ہیں ان میں آسٹریا ، بیلجیئم ، جمہوریہ چیک، فرانس ، جرمنی، لیتھوانیا ، پولینڈ ، رومانیہ ، اسلواکیہ اور سوئٹزر لینڈ شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک بہت سی سیاسی اور علمی شخصیات کو ہولوکاسٹ کے بارے میں شک کا اظہار کرنے کی بناء پر سزائيں دی جاچکیں ہیں۔ سنہ دو ہزار چھ میں برطانیہ کے ایک مورخ ڈیوڈ اروینگ  [David Irving ] کو تین سال قید کی سزا دی گئی۔ اس کے علاوہ فرانسیسی محقق روژے گارودی کو ہولوکاسٹ کے انکار کی بناء پر جیل جانا پڑا۔ سوئٹزرلینڈ کے محقق یورگن گراف کو بھی ہولوکاسٹ کے انکار پر مبنی بیانات دینے کی وجہ سے جیل کی سزا ہوئی۔ وہ جیل سے بچنے کے لۓ سوئٹزر لینڈ سے ہی چلے گۓ اور اس وقت وہ روس میں رہائش پذیر ہیں۔ اب ایک بار پھر بالواسطہ طور پر صیہونی حکومت کے وحشیانہ مظالم پر تنقید کرنے والے شخص سے باز پرس کی گئی ہے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب ڈیوڈ وارڈ نے حتی ہولوکاسٹ کے بارے میں شک کا اظہار بھی نہیں کیاہے بلکہ اس کا موازنہ فلسطینیوں پر روا رکھے جانے والے صیہونی حکومت کے مظالم کے ساتھ کیا ہے۔ برطانیہ کی لبرل پارٹی نے ڈیوڈ وارڈ کے ساتھ جس طرح کا برتاؤ کیا ہے اس سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ یورپ خصوصا برطانیہ میں اظہار رائے کی آزادی کا جو دعوی کیا جاتا ہ
ے وہ سراسر جھوٹ ہے۔

.......

/169