ابنا: صہیونی وزارت جنگ نےایک بیان میں اعلان کیاہےکہ وزيرجنگ ایھودباراک پیرکےدن امریکہ کےلئےروانہ ہوگئے اور وہ اس دورے میں امریکہ کےاعلی حکام سےملاقات اورگفتگوکریں گے۔گذشتہ ایک مہینےکےدوران امریکی وزیرجنگ کایہ دوسرا دورہ امریکہ ہےجبکہ اسرائیلی فوج کےچیف آف آرمی اسٹاف ابھی دس روز پہلےامریکہ کےدورےپر تھےاورانھوں نےاس ملک کےاعلی حکام سےملاقات اورگفتگوکی تھی ۔صہیونی وزيراعظم کےمشیراسحاق مولخو کی قیادت میں ایک سیاسی وفد اور صہیونی وزیرجنگ کادورہ امریکہ ایسےعالم میں انجام پارہا ہے کہ آئندہ مہینےامریکی صدر باراک اوبامہ مقبوضہ فلسطین کےدورے پرآنےوالےہیں۔امریکی اورصہیونی حکام کےدوران صلاح ومشورے اورآمدورفت ، بین الاقوامی میدان میں سازشوں کاجال بچھانےکی غرض سےصہیونی اورامریکی حکام کےاقدامات کےنئےدور کاغماز ہے۔امریکی حکومت ، ہمیشہ صہیونی ریاست کی حامی رہی ہے اورعلاقےمیں اس حکومت کےجرائم اورغاصبانہ قبضےکی حمایت کرتی رہی ہے اوراس تناظرمیں بےدریغ سیاسی ، سفارتی، فوجی اوراقتصادی مدد کرتی رہی ہے۔امریکہ کی جانب سے صہیونی ریاست کی بےدریغ حمایتوں نے صہیونی ریاست کی تسلط پسندانہ اورتوسیع پسندانہ پالیسیوں میں خصوصی کردارادا کیا ہے اور صہیونی ریاست کوپورایقین ہےکہ امریکہ ہرحال میں اس کی مدد کرتارہےگااوریہی فکر اس کےبعض خودسرانہ اقدامات کاباعث ہوئي ہے۔اوراسی بناپربعض اوقات امریکی اورصیہونی حکام کےدرمیان صہیونی ریاست کی توسیع پسندانہ پالیسیوں میں بظاہراختلاف نظر دکھائی دیتاہے۔امریکی حکام صہیونی حکام کویہ نصیحت کرتےرہتےہیں کہ اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں پراس طرح عمل کرےکہ وہ رائےعامہ کی نظروں میں نہ آئےکیونکہ رائےعامہ کاردعمل علاقائی اوربین الاقوامی سطح پراس غاصب حکومت کےمزیدتنہاہونےکاباعث ہوگا۔صہیونی ریاست کےبعض خودسرانہ اقدامات سےنہ صرف اس حکومت کےلئےسنگین نتائج نکلےبلکہ اس نےامریکہ کےلئےبھی مسائل کھڑےکردیئے۔اس بناپر سیاسی ماہرین کاخیال ہےکہ امریکی صدرباراک اوبامہ کےدورہ مقبوضہ فلسطین کامقصد غاصب صہیونی ریاست کوکسی طرح کےاحمقانہ اقدامات سےاجتناب کرنے کی ہدایات دینا ہے۔واضح رہے کہ صہیونی ریاست نےابھی حال ہی میں ایران کےخلاف تندوتیز بیانات اوردھمکیاں دی تھیں جس پرایران نے سخت ردعمل ظاہرکیاتھا۔امریکی حکام کاخیال ہےکہ ایران کےخلاف صہیونی ریاست اورامریکہ کےکسی طرح کےمداخلت پسندانہ اقدام کا تہران منہ توڑجواب دےگااورامریکہ اور صہیونی ریاست عملی طورپر ایسی تباہ کن دلدل میں پھنس جائےگی جس سےنکلناتسلط پسندطاقتوں کےلئےممکن نہيں ہوگا۔یہی وہ موضوع ہے جوباراک اوبامہ مقبوضہ فلسطین کےدورےکےموقع پرصہیونی حکام کےگوش گذارکریں گے۔
.......
/169