ابنا: الیگزینڈر لوکاشویچ نے ریڈیو روس سےگفتگو میں کہا کہ امریکہ کی پابندیاں ایران کے ایٹمی معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں رکاوٹ ہیں۔ الیگزینڈر لوکاشویچ نے ایران کے خلاف امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کو خطرناک اور بے اثر قرادیتے ہوئے کہا کہ یہ پابندیاں اسی زمانے میں بڑھائي جاتی ہیں جب ایران اور پانچ جمع ایک گروپ مذاکرات کرنا چاہتےہیں۔ یورپی یونین اورامریکہ نےدوہزار بارہ کے آغاز سے دوسرے ملکوں کوایران کے تیل کی خریداری سے روکنے کےلئے ایران کے بینکاری نظام پر پانبدیاں لگارکھی ہیں۔ واضح رہے امریکہ نے بدھ چھے فروری کو ایران کی تیل صنعت پر مزید پابندیاں لگائي ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی مخالفت کرتے ہوئے ایران کی تیل صنعت پر نئي پابندیاں لگائي ہیں جن میں ان ملکوں کی تعداد میں کمی آئے گي جو ایران سے تیل خرید سکتے ہیں اور ایران کو تیل آمدنی حاصل کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ امریکہ نے اپنے بار بار کے الزامات کو دوہراتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بقول اس کے عالمی برادری کی تشویشوں کودور نہیں کرتا ایران کے خلاف پابندیوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی بے بنیاد الزامات کے سہارے یہ دعوے کررہے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کا حامل ہے اور اسی بہانے انہوں نے ایران پر غیر انسانی پابندیاں لگادی ہیں واور ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے متعدد مرتبہ کے معائنوں سے یہ ثابت ہوچکا ہےکہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے۔
.......
/169