6 فروری 2013 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران اورگروپ پانچ جمع ایک نے چھبیس فروری کوقزاقستان میں مذاکرات کرنےکااعلان کیاہے۔

ابنا: ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کےڈپٹی سکریٹری علی باقری اوریورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیشن کےنائب سربراہ ہلگااشمتھ نےچھبیس فروری کوقزاقستان کےدارالحکومت آلماتی میں مذاکرات کرنے پراتفاق کرلیاہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کیتھرین اشٹن کی نائب ہلگااشمیتھ نے اس سےقبل ایران سےاپیل کی تھی کہ وہ مذاکرات کاوقت جنوری سےبڑھاکرفروری کرنےپرراضی ہوجائے۔
ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان جوبات اہمیت کی حامل ہےوہ مذاکرات کاوقت اورجگہ نہيں بلکہ مذاکرات کاطریقہ کار اور اس کارخ ہے۔تقریباایک مہینےسے صحافتی اورسیاسی حلقےیہ ظاہرکرنےکی کوشش کررہے ہیں کہ ایران مذاکرات کےنئےدور کےلئےلیت ولعل سےکام لےرہا ہے۔
مغرب کےاس سیاسی تجزیےسےیہ ثابت ہوتاہےکہ گروپ پانچ جمع ایک کےنزدیک مذاکرات کےلئے ایک اصولی طریقہ کارکے تعین کےبجائےاس مسئلےکاپروپيگنڈہ کرنا زیادہ اہم ہے ۔
ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان مذاکرات کوئي نئی بات نہيں ، بلکہ وہ واضح اورقابل غورمعیارات کےحامل رہے ہیں  جن میں سےایک معیار ایران کی جانب سےپیش کی جانےوالی تجاویزکاگروپ پانچ جمع ایک کی جانب کےجواب سےمتعلق ہے کہ وہ ایران کی تجاویزکاجواب کس طرح دیتا ہے ان تجاویزمیں سے چارنکات ایران کےایٹمی پروگرام سےمتعلق ہیں۔ ایران نےیہ تجاویز اپریل دوہزاربارہ میں استانبول دواجلاس میں پیش کی تھیں اوراس کےبعد بغداد اورپھرجون دوہزاربارہ میں ماسکومیں اجلاس ہوالیکن توقع کےبرخلاف ان اجلاسوں کاکوئی واضح نتیجہ سامنےنہيں آیا اورماہرین کی سطح پراجلاس ہونےکےباوجود گروپ پانچ جمع ایک نےاس کاکوئی واضح جواب نہيں دیا  اورکسی واضح دلیل کےبغیر آٹھ مہینےتک مذاکرات میں وقفہ پیداہوا۔
طرفین نےدسمبردوہزاربارہ میں ایک بارپھرمذاکرات کےلئےرابطےشروع کئےلیکن مغرب نےبےبنیاد بہانوں سےاسےموخرکردیایہ موضوع اس لحاظ سےاہم ہےکہ اس کےذریعےمذاکرات کےلئےمناسب زمین ہموارکی جاسکتی تھی کیونکہ جوراستہ امریکہ نےاختیارکیا ہے اس کاکوئی نتیجہ  نہیں نکلےگا۔
اب ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان مذاکرات کی نئی تاریخ پراتفاق سےکم سےکم اتناپتہ چلتاہےکہ فریقین کےاندرمذاکرات شروع کرنےکاعزم موجود ہے البتہ ابھی اس کےمحرکات کیا ہیں اس بارےمیں اطمینان سےکچہ نہيں کہاجاسکتالیکن اس کےنقصانات اورمشکلات پرنظرثانی کی جاسکتی ہے اس نقطہ نظرسے بعض فریقوں کی جانب سے روکاوٹ ڈالنے اورایران کودھمکی دینےاورپابندیاں عائدکرنےکی پالیسی میں شدت جس کاسلسلہ پچھلےچاردورکےمذاکرات میں جاری رہا ایسامسئلہ ہے  کہ اگر مغرب اپنےاس رویےمیں تبدیلی نہيں لائےگاتواس دور کےمذاکرات کےنتیجہ خيزہونےکی راہ میں بھی روکاوٹیں پیداہوسکتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہيں کہ منطقی مذاکرات میں لیت ولعل کی اصلی وجہ یہ ہےکہ ایران کاایٹمی مسئلہ ٹیکنیکل اورقانونی دائرےسےآگےنکل چکا ہے اورایک سیاسی مسئلےمیں تبدیل ہوچکاہےیہاں تک کہ روسی وزیرخارجہ سرگئی لاؤروف نے ابھی حال ہی میں ایک انٹرویومیں، ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےمذاکرات کےعمل کاجائزہ لیتےہوئےکہاکہ ایران کویورےنیم کی افزودگی سمیت پرامن ایٹمی پروگرام میں توسیع کا حق، مذاکرات کی بنیاد ہونی چاہئے۔

.......

/169