5 فروری 2013 - 20:30

بلوچستان کے سابق وزیر اعلی نواب محمد ا سلم رئیسانی کی وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہونے کے بعد جمعیت علما اسلام (ف)سمیت بلوچستان کی سابق مخلوط حکومت میں شامل بعض جماعتوں کی سرگرمیاں تیز ہو گيئں۔

ابنا: کوئٹہ ... نواب محمد اسلم رئیسانی کی جانب سے وزا ر ت اعلیٰ کے قلمدان سے مستعفیٰ ہونے کےبعد بلوچستان کی دوسری اتحا د ی جماعتوں کی جانب سے وفاقی حکو مت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ گورنر راج ختم کر کے صوبائی حکومت کو بحال کریں ان ہاوس تبدیلی کیلئے تمام جماعتیں تیار ہیں۔تاھم مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ اگر رئیسانی حکومت کو بحال کیا گیا تو دو لانگ مارچ ہونگے، ایک اسلام آباد کی طرف جائیگا اور دوسرا کوئٹہ کی طرف۔ ہم اس جمہوری حکومت کے حامی ہیں جو عوام کو ڈیلیور کرے، جو عوام کو تحفظ فراہم کرے، اگر ایک جمہوری حکومت یہ چیزیں فراہم نہیں سکتی تو اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔
علامہ امین شہیدی نے کہا کہ ہم جمہوریت کے حامی ہیں، تاہم اگر جمہوری لوگ دہشتگردوں کو پناہ دیتے ہوں اور انہیں جیلوں سے چھڑا کر فرار کراتے ہوں اور مظلوموں کا ساتھ نہ دیتے ہوں تو ایسی جمہوریت ہم نہیں چاہتے۔
.......
/169