29 جنوری 2013 - 20:30

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد تنازعہ کے فریقوں کو متنازعہ زمین کو جوں کی توں برقرار رکھنے اور یہاں کوئی بھی دخل اندازی نہ کرنے کا حکم دیا ہے.

ابنا: ہندوستان کی سپریم کورٹ نے کل منگل کو بابری مسجد متنازعہ زمین کے تمام فریقوں اور حکام  کو حکم دیا کہ 64 ایکڑ پر مشتمل اس متنازعہ زمین کی موجودہ صورتحال کو برقرار رکھی جائے ۔
خیال رہے اس سے قبل الہ آبادہائی کورٹ نے 2010میں اس زمین کو مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تین حصوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا ۔ اس عدالتی فیصلے کے خلاف مسلمانوں نے مئی 2011 کو سپریم کورٹ میں عرضی داخل کردی تھی ۔
شدت پسند ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے 20سال قبل ایودھیا میں بابری مسجد پر حملہ کرکے اسے شہید کیا ۔ ہندوؤں کا دعوی ہے کہ بابری مسجد ، رام مندر کو مسمار کرکے بنایا گیا ہےلیکن محکمۂ آثار قدیمہ کی تحقیقات کے مطابق  اس حوالے سے دعوے بے بنیاد ہیں اورثابت ہوگیا ہے کہ یہ ہندوستان کےعوام میں تفرقہ پیدا کرنے کےلئے برطانوی سامراج کی سازش ہے۔

.......

/169