23 جنوری 2013 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے بدھ کے دن کابینہ کے اجلاس کے موقع پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور قاہرہ میں ہوگا۔

ابنا: گزشتہ برس ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کے تین دور ہوئے تھے۔ یہ مذاکرات انقرہ اور اس کے بعد بغداد میں جبکہ مذاکرات کا تیسرا اور آخری دور ماسکو میں ہوا تھا۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کیتھرین ایشٹون کے ترجمان مائیکل مان نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ کے بیانات پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہےکہ گروپ پانچ جمع ایک اصولی طور پر کسی بھی جگہ مذاکرات کۓ جانے کا مخالف نہیں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ انھوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ ایران باربار مذاکرات کے لۓ مختلف مقامات کی تجویز دیتا رہتا ہے۔ مائیکل مان نے اس سے یہ غلط نتیجہ اخذ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ایران نئي نئی شرائط پیش کر کے مذاکرات کو التواء میں ڈالنے کے درپے ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کیتھرین ایشٹون کو گروپ پانچ جمع ایک کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات پر مامور کیا گيا ہے۔ دریں اثناء روسی وزیر خارجہ سرگئي لاوروف نے بدھ کے دن ایک پریس کانفرنس کے دوران ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے اس سمجھوتے  کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ جس پر ایران اور آئي اے ای کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے کہا کہ ایران نے  اس سلسلے میں مکمل اتفاق رائے تک پہنچنے پر تاکید کی ہے۔ ان مذاکرات کا ساتویں دور گزشتہ ہفتے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے نائب سربراہ ہرمن ناکارتس کے دورۂ ایران کے موقع پر انجام پایا۔  اور مذاکرات کا اگلا دور بارہ فروری کو ہوگا۔ تہران میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات اگرچہ مکمل طور پر نتیجہ خیز ثابت  نہیں ہوئے ہیں لیکن ایک زاویۂ نگاہ سے یہ مذاکرات اس بات کے عکاس ہیں کہ باقی ماندہ مسائل کے حل کے بارے میں فریقین پرعزم ہیں۔ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے مذاکرات میں اپنی ساری توجہ تہران کے مشرق میں واقع پارچین فوجی سائٹ کے معائنے پر مرکوز کر رکھی ہے۔ اس درخواست کا سبب اس سائٹ میں ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کے سلسلے میں کۓ جانے والے بے بنیاد دعوے ہیں۔ اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے اس دعوی کا کوئي ایک ثبوت بھی موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی اب تک دو بار اس سائٹ کا معائنہ کرچکی ہے۔ اور اسے اس میں تشویش والی کوئي چیز بھی نہیں ملی ہے۔اس کے باوجود ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے اس بے بنیاد دعوے کو اپنی اصل ترجیح قرار دے رکھا ہے۔ اور یورپ نے بھی کہا ہے کہ  ایران کے ساتھ  اس کے مذاکرات کا مقصد ایران میں یورینیئم کی افزودگي بند کرانا ہے۔ یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جو سراسر غیر منطقی اور این پی ٹی میں درج اس معاہدے کے رکن ممالک کے حقوق کے منافی ہے۔امریکی جریدے فارن پالیسی نے اس سلسلے میں اپنے تازہ شمارے میں  ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں یورپ کے غلط رویۓ پر تنقید کی ہے اور لکھا ہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی جانب سے پارچین سائٹ تک رسائی پر اصرار کا محرک خود اس ایجنسی کے حکام کے مطابق ایسی تصاویر اور دستاویزات ہیں جو ایک تیسرے ملک نے ایجنسی کو دی ہیں۔ان دستاویزات اور تصاویر کی بنیاد پر یہ دعوی کیا گيا ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ گزشتہ ایک عشرے کے دوران  یا اس سے پہلے اس سائٹ میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق سرگرمیاں انجام دی گئی ہوں۔ لیکن ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے یہ دستاویزات ایران کو پیش نہیں کی ہیں جبکہ ان دستاویزات کو خفیہ رکھنے اور ایران کو نہ دکھانے کی کوئي وجہ نہیں ہے۔ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے سابق سربراہ ہینس بلیکس نے کہا ہے کہ ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عالمی معائنہ کاروں کو اپنی فوجی سائٹوں کے معائنے کی اجازت نہ دے۔ لیکن ایران نے تو اس سلسلے میں بھی دوسرے ہر ملک سے زیادہ فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ امن کے عالمی تحقیقاتی ادارے "اسٹاک ہوم" نے ایک رپورٹ جاری کر کے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارچین کے معائنے کا اصرار ترک کر دے۔ اور اسے ہمیشہ یہ سوچنے کے  بجائے کہ وہ ایران کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرے ایران مخالف غیر منطقی پابندیوں کو ختم کروانے کے لۓ ایک نقشۂ راہ پیش کرنا چاہۓ۔مذاکرات کے تعطل کا شکار ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے بعض فریق یورینیئم کی افزودگي سمیت ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی پیشرفت کے سلسلے میں ایران کے مسلمہ حق کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں حالانکہ اسے ہر طرح کے منطقی مذاکرات کی بنیاد قرار پانا چاہۓ۔

.......

/169