اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد نے ایران کی خبر رساں ایجنسی نسیم آنلائن کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ہم ترکی کے ساتھ نو عشروں کے بعد بحال کردہ تعلقات کے پیش نظر بعض ترک حکمرانوں اور سیاستدانوں کے جہل کو دوطرفہ تعلقات خراب کرنے کی اجازت نہيں دیں گے کیونکہ شام ترکی کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہم سمجھتا ہے۔ انھوں نے شام کے بعض علاقوں میں مسلح دہشت گردوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کی فوج کسی رکاوٹ کا سامنا کئے بغیر ملک کے مختلف علاقوں میں داخل ہو رہی ہے اور مسلح گروہ اب تک شام کی فوج کو شکست نہیں دے سکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ شام کے خلاف علاقائی اور عالمی جنگ جاری ہے اور اسی بنا پر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب موقع کی ضرورت ہے لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ شام کی صورت حال پہلے سے بہتر ہے۔صدر بشار الاسد کے انٹرویو کے چیدہ چیدہ نکات:٭ کسی خاص علاقے میں کشیدگی یا کسی علاقے میں امن و سکون کو پورے ملک کے حالات اچھے یا برے ہونے کا معیار نہیں قرار دیا جاسکتا۔٭ موجودہ جنگ ارادوں کی جنگ ہے؛ دہشت گرد ٹولوں کا ارادہ ہے کہ شام کو تباہ و برباد کریں اور ہمارا ارادہ ہے کہ دہشت گردوں کو ایسا نہ کرنے دیں۔٭ دشمن ہمارے مختلف شہروں کی قوت اور استقامت آزمارہا ہے اسی وجہ سے وہ مسلسل نقل مکانی کررہا ہے۔ ٭ فنی اور تزویری نقطہ نگاہ سے ہم نہایت پیچیدہ لڑائی لڑ رہے ہیں لیکن ہماری افواج مسلسل کامیابیاں حاصل کررہی ہیں۔٭ ہم علاقائی اور بین الاقوامی سازش کے خلاف لڑ رہے ہیں چنانچہ یہ جنگ طویل المدت ہوگی اور اس کے جلد خاتمے کی توقع غیر معقول ہے؛ ہمیں دشمن کو مکمل شکست دینے کے لئے وقت کی ضرورت ہے۔٭ خلاصہ یہ ہے کہ ہم مسلسل پیشقدمی کررہے ہیں؛ ہماری صورت حال ماضی سے کہیں زيادہ بہتر ہے اور لیکن فیصلہ کن نتائج اخذ کرنے کے لئے زیادہ وقت کی ضرورت ہوگی۔ ٭ ہمارے بعض پڑوسی ممالک ہمارے ساتھ ہیں لیکن شاید وہ اپنی سرحدوں کی مکمل نگرانی اور دہشت گردوں اور ہتھیاروں کے ملک میں داخلے سے قاصر ہوں۔ بعض ممالک تساہل سے کام لے رہے ہیں اور بعض دیگر براہ راست طور پر کشیدگی میں ملوث ہیں۔٭ ہم مداخلت کرنے والے ممالک کے کردار اور موقف کے جواب میں وہی موقف اور وہی کردار نہيں اپنانا چاہتے۔ ترکی کا کردار ہمارے ملک میں بالکل واضح ہے ترک حکمران ہمارے شہریوں کے قتل عام میں ملوث ہیں لیکن 90 سال کشیدگی کے بعد ہی ہمارے تعلقات ترکی کے ساتھ معمول پر آئے ہیں چنانچہ ہم ترکی کے بعض سیاستدانوں کے جہل کی وجہ سے ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہيں کرنا چاہتے کیونکہ ہمارے تعلقات افراد کے ساتھ نہیں ملکوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ترکی کے عوام کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات اہم ہیں اور وہ اپنی حکومت کی تشہیری مہم سے ہرگز متاثر نہیں ہوئے ہیں اور ہماری حمایت کررہے ہیں۔ عوام کے موقف کو مد نظر نہ رکھ کر پڑوسیوں کے خلاف معاندت پر مبنی اقدامات عمل میں لانے والے حکمرانوں کی سیاسی عمر کچھ زیادہ طویل نہیں ہوا کرتی۔٭ ہمیں شہروں میں دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے عوام کی جان و مال کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے چنانچہ کاروائیوں کے دوران ہم پوری قوت استعمال نہیں کرسکتے جبکہ دہشت گردوں کے سامنے کوئی ضابطہ اخلاق نہيں ہے اور بعض عرب اور مغربی ممالک بھی ان کی مدد کررہے ہیں۔٭ ہمارے ملک میں حکومت کے قابو سے باہر کوئی علاقہ نہیں ہے جس کو حائل پٹی قرار دیا جاسکے اور ہم جہاں میں جانے کا ارادہ کرتے ہیں ہمیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہيں ہوتا۔ ٭ فوج کا فریضہ تمام ملکوں میں ملکی حدود کی حفاظت ہے اور یہ حفاظت سرحدوں تک محدود نہيں ہوتی بلکہ اندرونی کشیدگی کا مقابلہ بھی بھی ان فرائض میں شامل ہے۔ جہاں بھی ملکی امن و امان کے خلاف اقدام ہوگا اس کا وہیں سد باب کیا جاتا ہے۔ ٭ جو بھی دشمن کے ساتھ تعاون کرے وہ دشمن ہے اور جو بھی دشمن کے لئے جاسوسی کرے وہ دشمن ہے؛ دشمن اندر لڑرہا ہے اور فوج بھی اندر ہی اس کا مقابلہ کررہی ہے۔ ٭ دہشت گردوں کے خلاف ہماری جنگ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ہماری طویل مزاحمت کا تسلسل ہے۔٭ کہا جاتا ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کے خلاف کاروائی کے لئے دوسرے ملکوں سے ڈکٹیشن لیتے ہیں جبکہ ملکی سالمیت اور بقاء کے لئے ہمیں کسی ڈکٹیشن کی ضرورت نہيں ہے۔ ٭ یہ بات غلط ہے کہ شام کی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی تحریک ابتداء میں پر امن تھی کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلے ہفتے میں ہی دہشت گردانہ کاروائیوں کا آغاز ہوا اور ہمارے کئی سیکورٹی اہلکاروں کو قتل کیا گیا؛ کیا یہ افراد عوامی نعروں کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے؟ یہ غیرمنطقی دعوی ہے کیونکہ انہیں ہتھیاروں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔٭ دشمن نے ابتداء میں کوشش کی تھی کہ عوام کو قتل کرکے ان کے قتل کا الزام سرکاری افواج پر عائد کریں تاکہ فوج اور عوام کے درمیان اختلاف پیدا ہوجائے لیکن دہشت گردوں کو جب اس سازش میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو گذشتہ رمضان سے وہ براہ راست حکومت کے خلاف میدان جنگ میں اتر آئے۔ ٭ دہشت گردوں نے نوگو ایریاز تشکیل دینے کی کوشش کی لیکن ہم نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہ دی جس کے بعد انھوں نے ٹارگٹ کلنگ اور دھماکوں کا سہارا لیا اور عوام کا قتل عام شروع کیا۔ ٭ دہشت گرد اس وقت سڑکوں پر ناکے لگا کر شہریوں کی اشیاء ضرورت ـ جیسے آٹا وغیرہ ـ شہروں میں پہنچنے کا راستہ روکنے کی کوششیں کررہے ہيں اور گیس پائپ لائن کو دھماکوں سے اڑا کر سردیوں میں لوگوں کو مشکلات سے دوچار کررہے ہیں۔ جنگ ابتداء ہی سے مسلحانہ تھی اور ہم نے ابتداء میں ہی بعض تصاویر شائع کردیں جن میں دہشت گردوں کو عوام پر گولیاں چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ٭ ہماری موجودہ کاروائیاں مکمل عوامی مفاہمت کے مطابق جاری ہیں اور آج دشمن کی حکمت عملی بدل گئی ہے چنانچہ ہم کشیدگی سے قبل کی صورت حال کی طرف نہیں لوٹ سکتے اور ایسی توقع ہی بےجا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
21 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 383759
شام کے صدر بشار الاسد:ترک حکمران شام کے قتل عام میں ملوث ہیں/ مخالف تحریک ابتداء ہی سے دہشتگردانہ تھی ہور پہلے ہفتے ہی میں دہشت گردانہ کاروائیاں ہوئیں اور سیکورٹی اہلکاروں کو قتل عوامی نعروں نے نہیں دہشت گردوں کے ہتھیاروں نے گولیوں سے چھلنی کرکے شہید کیا؛ دشمن نے ابتداء ہی سے عوام کو قتل کرکے الزام سرکاری افواج پر عائد کرنے کی کوشش کی لیکن اس سازش میں شکست کے بعد گذشتہ رمضان سے وہ براہ راست حکومت کے خلاف برسرپیکار ہوکر دہشت گردی پر اتر آئے۔