16 جنوری 2013 - 20:30

ڈاکٹرطاہرالقادری اورحکومتی ٹیم کے درمیان5گھنٹے جا ری رہنے والے مذاکرات با الآخر کامیاب ہو گئے ہیں،اور طے شدہ معاہدہ 3صفحات پرمشتمل ہے جس پر وزیر اعظم پرویز اشرف نے دستخط کئے ہیں۔

ابنا: ڈاکٹرطاہرالقادری اورحکومتی ٹیم کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر وزیراعظم نے بھی پردستخط کردیئے ہیں جس کے بعد تحریک منہاج القران کے سربراہ ڈاکٹرطاہرالقادری نے کہا کہ لانگ مارچ اپنی منزل مقصود تک پہنچ گیا ہے، حکومتی ٹیم کے درمیان کامیاب مذاکرات، معاہدے اور اس پر فریقین کی جانب سے دستخط کے بعد اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کے عوام اورلانگ مارچ کے شرکاء کیلئے فتح کادن ہے، مارچ میں شریک بہنوں اوربیٹیوں کے صبر و استقامت کی مثال کم ملے گی۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اب تک ایسا ملین مارچ نہیں دیکھا، اللہ نے آپ کو فتح عطا کی۔اطلاعات کے مطابق ڈاکٹرطاہرالقادری اورحکومتی ٹیم کے درمیان5گھنٹے جا ری رہنے والے مذاکرات با الآخر کامیاب ہو گئے ہیں،اور طے شدہ معاہدہ 3صفحات پرمشتمل ہے ، ڈاکٹرطاہرالقادری اورمذاکراتی ٹیم نے مسودے پردستخط کردیئے ہیں جبکہ معاہدے کا مسودہ دستخط کے لئے وزیراعظم کے پاس بھیجا گیا جس پر ،وزیر اعظم نے بھی دستخط کئے۔ذرائع کے مطابق قمرزمان کائرہ نے وزیراعظم کوٹیلی فون پرمذاکرات پراعتمادمیں لیا ۔جس کے تحت الیکشن کمیشن سے متعلق تحفظات پرقانونی نکات پربات چیت ہوگئی ہے۔الیکشن کمیشن کے معاملے پرمذاکرات دوبارہ27جنوری سے شروع ہونگے ،انتخابات اسمبلیاں تحلیل ہونے کے90دن کے اندرہوں گے ۔تحریری معاہدے کے بعد ڈاکٹرطاہرالقادری نے اعلان کیا کہ وفاقی وزراء مسودے کووزیراعظم کے پاس لے جارہے ہیں ۔ واضح رہے کہ طرفین کے درمیان شام چار بجے مذاکرات شروع ہوئے اور وفاقی وزیر قمر زماں کائرہ صدر زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو صورتحال سے اپ ڈیٹ کرتے رہے اور تازہ ترین ہدایات بھی لیتے رہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈیڈ لائن کے بعد وزیراعظم نے مذاکرات کے لیے چوہدری شجاعت حسین کی سربراہی میں حکومتی ٹیم تشکیل دی۔ کمیٹی میں فاروق نائیک، ڈاکٹر فاروق ستار افراسیاب خٹک، سید خورشید شاہ، قمر زمان کائرہ، مخدوم امین فہیم، بابر غوری، سینیٹر عباس آفریدی اور مشاہد حسین شامل تھے۔کمیٹی ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال، دھرنے، عبوری حکومت کے قیام سمیت دیگر امور پر ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ ڈی چوک میں ان کے کنٹینر میں بیٹھ کر مذاکرات کر رہی تھی۔ دونوں فریقین کے درمیان باہمی مشاورت سے مذاکرات طے پا گئے ہیں۔ معاہدے کی کامیابی کے بعد لانگ مارچ کے شرکا نے بھنگڑے ڈالنا شروع کر دیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110