ابنا: حوزہ علمیہ قم کے مدرسہ امام خمینی (رہ) میں کوئٹہ شھر میں ہونے والے دہشت گردانہ اور سفاکانہ واقعہ کے خلاف آج احتجاجی علامتی دھرنا دیا گیا۔ احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حوزہ علمیہ قم میں موجود مختلف سیاسی و فرہنگی تنظیموں کے سربراہوں نے پاکستان میں جاری شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی کی شدید مذمت کی اور حکومت سے بھرپور انداز میں مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرے اور ان کے تمام مطالبات کو منظور کرے۔ اجلاس میں صوبہ بلوچستان کی نااہل انتظامیہ اور وزیراعلٰی کی شدید مذمت کی گئی، دینی علماء و طلاب کا کہنا تھا کہ ایسا وزیراعلٰی جو اپنے شہر میں بےگناہ قتل کئے جانے والے سینکڑوں انسانوں کے جنازے زمین پر رکھ کر بیرونی دوروں میں مصروف ہے، وہ کس طرح عوام کے مسائل کو حل کر سکتا ہے، اس قسم کا مفسد فی الارض شخص حکمرانی کے لائق نہیں ہے۔ موجودہ صورتحال نے ثابت کر دیا ہے کہ صوبہ بلوچستان کی حکومت، عقلاً، شرعاً، اخلاقاً اور قانوناً حکمرانی کا کوئی جواز نہیں رکھتی، لہذا ایسی نااہل حکومت کی فی الفور ختم کیا جائے۔
حوزہ علمیہ قم کے دینی علماء و طلاب نے پاکستان میں موجود تمام تنظیموں اور شخصیات سے اپیل کی وہ اسی طرح اپنی وحدت اور اتحاد کو باقی رکھتے ہوئے ڈٹے رہیں، انشاءاللہ کامیابی نزدیک ہے۔ اس اجلاس میں جمہوری اسلامی ایران کی وزارت خارجہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا گیا، جنہوں نے پاکستان میں مظلوم شیعہ مسلمانوں کی مظلومیت کا ادراک کرتے ہوئے اس دہشت گردانہ کارروائی کی مذمت کی۔ دینی طلاب نے تمام ممالک سے اپیل کی وہ پاکستان میں موجود اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اس احتجاجی دھرنے میں شریک دینی طلاب نے پاکستان کی ان تمام سیاسی اور دینی تنظیموں کو خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے اس مشکل گھڑی شیعیان پاکستان کا ساتھ دیا اور تمامی سیاسی اور دینی تنظیموں سے اپیل کی کہ جن تنظیموں نے ابھی تک اس نااہل حکومت کے خلاف مظلوم شیعہ مسلمانوں کے موقف کی حمایت نہیں کی، وہ فی الفور اس کی حمایت کریں۔ اسی طرح کل حوزہ علمیہ قم کے مدرسہ امام خمینی (رہ) میں ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور اس مظاہرے کے بعد تہران میں موجود پاکستانی سفارت خانہ کے سامنے احتجاجی دھرنے سے متعلق پروگرام کو حتمی شکل دی جائے گی۔
.......
/169