ابنا: رپورٹ کے مطابق مازندران ایران کے عالم دین آیت الله نورالله طبرسی نے ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے تاکید کی: اس زمانہ میں تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ شہدا اور اسلامی آثار کی حفاظت کریں۔
آیت الله طبرسی نے اس بیان کے ساتھ کہ ایران میں انقلاب و اسلام کے دفاع میں ہونے والے شہدا عاشقانہ و عاقلانہ شہید ہوئے ہیں وضاحت کی: شہادت کی ثقافت خاص اھمیت کا حامل ہے اور ھم لوگوں کو اس ثقافت پر فخر کرنا چاہیئے، اگر ھم لوگوں کے پاس یہ ثقافت نہ ہوتا اور ھم لوگ اس ثقافت کو بھول گئے ہوتے یعنی ایسا ہے کہ ھم لوگوں نے اپنی تاریخ کو بھلا دیا ہے۔
انہوں نے اپنی تقریر میں سعودی عرب کی طرف سے مسلمانوں کی تاریخی آثار کو ختم کرنے کی کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا: سعودی عرب کی تمام تاریخی آثار شرک کے بہانہ سے ختم کر دی گئی اور یہ ملک اس وقت کسی بھی طرح کی شناخت نہیں رکھتی ہے۔
مازندران کے بزرگ عالم دین نے سعودی عرب کی طرف سے شیعی شناخت کو ختم کرنے کے کارکردگی کی طرف توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا: شیعت کی تاریخی پرانی ہے اس کی حفاظت کے لئے خون و جان دی گئی ہے۔
.......
/169