ابنا: اسلام آباد سے رپورٹ کے مطابق، شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے ایک اعلی سطحی اجلاس مہعقد ہوا جس میں اربعین حسینی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتظامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ صوبوں نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے، صوبائی حکومتوں کو فول پروف انتظامات کی ہدایات کر دی گئی ہیں، موبائل فون سروس اور موٹر سائیکلز کی بند ش کا فیصلہ صوبے کریں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عزاداری کے جلوسوں کی فضائی نگرانی کے علاوہ واک تھرو گیٹس بھی لگائے جائیں۔واضح رنے کہ گزشتہ سال اربعین حسینی کے موقع پر کراچی میںدھشگردانہ واقعہ رونماء ہوا تھا جس میں کئی عزادار شھید و زخمی ہوئے تھے۔جبکہ 3 روز قبل بلوچستان کے ضلع مستونگ کے درینگڑھ علاقے میں ایران آنیوالے زائرین کی تین بسوں پرخودکش حملے کی جس میں21 اور بعض اطلاعات کے مطابق 37 زائرین شھید اور50 کے قریب شدید زخمی ہوئے تھے واضح رہے کہ3بسوں پر مشتمل زائرین کا یہ قافلہ سالار شھیدان کربلا اباعبداللہ الحسین(ع)کے چہلم کے مراسم میں شرکت کرنے کیلئے کوئٹہ سے ایران کے راستے کربلا جا رہا تھا جسے دھشتگردوں نے جو امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ھیں چند ڈالروں کے عوض خاک و خون مین نہلا دیا۔اس سے قبل بھی اسی علاقے میں فرقہ پرست دھشتگردوں نے کئی واقعات میں درجنوں زائرین کو شھید کر دیا تھا جس پر بلوچستان کی حکومت نے زائرین کو مکمل تحفظ اور سکیورٹی دینے کا وعدہ کیا تھا جو تا جال وعدے کی حد تک ہی ہے۔ واضح رہے کہ3بسوں پر مشتمل زائرین کا یہ قافلہ سالار شھیدان کربلا اباعبداللہ الحسین(ع)کے چہلم کے مراسم میں شرکت کرنے کیلئے کوئٹہ سے ایران کے راستے کربلا جا رہا تھا جسے دھشتگردوں نے جو امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ھیں چند ڈالروں کے عوض خاک و خون مین نہلا دیا۔اس سے قبل بھی اسی علاقے میں فرقہ پرست دھشتگردوں نے کئی واقعات میں درجنوں زائرین کو شھید کر دیا تھا جس پر بلوچستان کی حکومت نے زائرین کو مکمل تحفظ اور سکیورٹی دینے کا وعدہ کیا تھا جو تا جال وعدے کی حد تک ہی ہے۔
.....
/169