26 دسمبر 2012 - 20:30

اطلاعات کے مطابق شامی افواج کے حملے میں 300 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں / جبہۃالنصرہ کے 16 دہشت گرد ہلاک / شامی اپوزیشن: شام کا پرامن حل عالمی مفاہمت سے مشروط / الابراہیمی کی ایرانی سفیر سے ملاقات / امریکیوں نے شام پر حملے کی مخالفت کردی۔

 شام میں 300 دہشت گرد ہلاک / بحران کا حل بین الاقوامی مفاہمت / امریکی حملے کے خلافاطلاعات کے مطابق شامی افواج کے حملے میں 300 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں / جبہۃالنصرہ کے 16 دہشت گرد ہلاک / شامی اپوزیشن: شام کا پرامن حل عالمی مفاہمت سے مشروط / الابراہیمی کی ایرانی سفیر سے ملاقات / امریکیوں نے شام پر حملے کی مخالفت کردی۔ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "حارم" کے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف شامی افواج کی کاروائی میں "شہدائے ادلب" نامی دہشت گرد ٹولے کے سرغنے سمیت 300 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔عرب سعید کے علاقے میں مزید دہشت گرد سرکاری افواج کی کاروائی میں ہلاک کئے جاچکے ہیں اور فوج نے اس علاقے سے بڑی مقدار میں جدیدترین ہتھیاربرآمد کرکے ضبط کرلئے ہیں۔ عرب سعید ایک گاؤں کا نام ہے جو ادلب کے نواح میں واقع ہے۔ نیز شامی ٹیلی ویژن نے انکشاف کیا ہے کہ شہر حمص کے اطراف میں سرکاری افواج کے حملے میں "درع الاسلام" نامی دہشت گرد ٹولے کے سرغنے سمیت بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔ادھر جبہۃالنصرہ کے متعدد دہشت گرد شام کے مشرقی علاقے دیر الزور کے علاقے میں مارے گئے ہیں جنہیں دنیا والے اخوان المسلمین کا عسکری بازو سمجھتے ہيں اور اخوان والے انہیں القاعدہ کی شاخ سمجھتے ہیں!حمص کے نواحی علاقے السلطانیہ میں بھی النصرہ کے متعدد دہشت گرد ہلاک کئے گئے ہیں اور سرکاری فوج نے دمشق کے نواح میں بھی المزہ کے علاقے میں شمالی بریگیڈ کے دہشت گردوں کے ایک خفیہ ٹھکانے پر حملہ کیا۔  حلب میں ایک فوجی ہوائی اڈے پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے ایک دستے کا مکمل صفایا کیا گیا۔ دوسری جانب سے شام کی حقیقی اپوزیشن کے ایک راہنما نے کہا ہے کہ شام کے بحران کا راہ حل بین الاقوامی مفاہمت کا محتاج ہے۔شام کی نیشنل ڈیموکریٹک چینج کونسل کے ایک راہنما حسن عبدالعظیم نے منگل کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اخضر ابراہیمی سے اپنی بات چیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ابراہیمی شام کا مسئلہ حل کرنے کے لئے بین الاقوامی مفاہمت کے لئے کوشاں ہیں اور اسی سلسلے میں وہ روس اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی کوشش کررہے ہیں اور دوسرے مرحلے میں وہ پانچ بڑی طاقتوں کو متحد کرنا چاہتے ہیں اور ایسی مفاہمت کے لئے کوشاں ہیں جس کے نتیجے میں شام میں خونریزی کا خاتمہ ہو۔انھوں نے کہا کہ اپوزیشن راہنماؤں نے اخضر ابراہیمی سے کئی ملاقاتیں کی ہیں اور سرکاری حکام کے ساتھ بھی ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے روس کے ساتھ اس سلسلے میں مفاہمت کرلی تو سعودی عرب، ترکی اور قطر بھی امریکہ کی پیروی کرکے شام کے بحران کو مزید شدت بخشنے کی اپنے اقدامات ترک کریں گے۔ ادھر اخضر ابراہیمی نے دورہ شام کے دوران، دمشق میں مقیم اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر شیبانی سے ملاقات کی ہے۔ دونوں فریقوں نے شام کے بحران کے پرامن حل پر زور دیا ہے اور ابراہیمی نے بحران شام کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی تجاویز کو قابل توجہ قرار دیا اور کہا کہ وہ بہت جلد تہران کے دورے پر آرہے ہیں۔ امریکہ میں ہونے والے ایک سروے سے ثابت ہوچکا ہے کہ امریکی شام کے اندرونی تنازعے میں امریکی فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔ یہ سروے او سی آر نامی بین الاقوامی نیٹ ورک کے تعاون سے انجام دیا گیا جس میں 46 فیصد امریکی شرکاء نے شام کے اندرونی تنازعے میں امریکی مداخلت کے سلسلے میں تشویش ظاہر کی ہے۔ 57 فیصد نے حکومت شام کے خلاف برسرپیکار مسلح شدت پسندوں کو عسکری اور مالی امداد دینے کی مخالفت کی ہے اور 57 فیصد نے ہی شام میں نوفلائی زون کے قیام کے لئے بری افواج اس ملک میں بھجوانے کی مخالفت کی ہے۔  17 اور 18 دسمبر کو ٹیلی فون پر انجام پایا جس میں 620 افراد نے شرکت کی۔واضح رہے کہ شام میں امریکی افواج، یا طیارے یا میزائل بھجوانے کی تجویز دوسال پہلے پیش کی گئی جو اس ملک میں شدید اختلاف کا سبب بنی؛ جماعتوں کے درمیان خلیج حائل ہوئی اور امریکہ بہرحال براہ راست مداخلت کی جرات نہ کرسکا لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ شام کے 22 ماہہ بحران کی کمانڈ امریکہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اخراجات برداشت کرنے کا روادار نہيں ہے کیونکہ خلیج فارس کی جنوبی عرب ریاستیں امریکی کی طرف سے یہ اخراجات برداشت کررہی ہیں جن میں سعودی عرب اور قطر پیش پیش ہیں۔ مذکورہ عرب ریاستیں شام میں جلتی پر تیل کا کام دے رہیں؛ دہشت گردوں کو عسکری اور مالی امداد فراہم کررہی ہیں جبکہ ترکی بھی اس غیرانسانی اور غیراسلامی سازش ميں شریک ہے جو قطر اور سعودی عرب سے رقوم لے کر دہشت گردوں کو عسکری اور تخریبی تربیت دیتا ہے، اور انہیں شام میں بھجواتا ہے اور دہشت گرد بھرتی کرنے میں بھی دوسرے امریکہ نواز و اسرائیل نواز ممالک کا ہاتھ بٹا رہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔/110