ابنا: اطلاعات کے مطابق 17 دسمبر کو ایک مقامی انگریزی روزنامے ڈان میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈھائی سال کا عرصہ بیت چکا لیکن پولیس اور رینجرز سمیت حساس ادارے یوم عاشورا کو ہونے والے بم دھماکے میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے ہیں؛ اور جبکہ سانحہ عاشورائے کراچی کے کیس کی فائل منوں مٹی تلے دبتے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ سنہ 2010ء میں سانحہ عاشورا بم دھماکے میں ملوث ناصبی تکفیری دہشت گرد سٹی کورٹ کے احاطے سے اپنے دہشت گرد ساتھیوں کی مدد سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے جنہیں تاحال ان کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔سنہ 2010ء میں تین ناصبی تکفیری دہشتگرد مرتضیٰ عرف شکیل، محمد ثاقب فاروقی اور وزیر محمد کو کالعدم دہشتگرد تکفیری گروہ جند اللہ کے دہشت گردوں نے سٹی کورٹ سے ایک حملے کے بعد فرار کروایا تھا جبکہ دہشتگردوں کا یک ساتھی مراد شا ہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہو گیا تھا۔تکفیری دہشت گردوں کا تعلق کالعدم جند اللہ گروپ سے تھا جن پر دسمبر 2009ء میں چار مسلسل بم دھماکوں کے مقدمے تھے جن میں 7,8,9 محرم سمیت روز عاشورائے حسینی (ع) کو مرکزی جلوس میں بم دھماکہ کرنے کا مقدمہ بھی شامل تھا۔واضح رہے کہ سانحہ عاشورائے کراچی میں 50 سے زائد عزاداران امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے تھے جبکہ ایک سو سے زائد زخمی ہوئے تھے جن میں بچے، خواتین، جوان اور بزرگ شامل تھے۔ ناصبی تکفیری دہشت گردوں پر چار بم دھماکوں بشمول سانحہ عاشورا بم دھماکے کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 3میں تاحال التوا کا شکار ہے ۔ 26جون سنہ2010ء کو ناصبی دہشت گردوں کو ایک اور مقدمہ کی سماعت کے لئے سٹی کورٹ لایا گیا تھا جہاں پر تکفیری دہشت گردوں کے ساتھیوں نے پولیس پر ایک مسلح حملہ کر تے ہوئے تینوں دہشت گردوں کو پولیس کی حراست سے آزاد کروا لیا تھا جبکہ ان کا ایک دہشتگرد مراد شاہ پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا تھا۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 3 نے فرار ہونے والے تینوں دہشت گردوں کی گرفتاری کے لئے تاوقت گرفتاری وارنٹ جاری کرتے ہوئے پولیس کی ہدایات جاری کی تھیں کہ تینوں دہشت گردوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔آج سانحہ عاشورائے کراچی میں ملوث دہشت گردوں کو فرار ہوئے ڈھائی سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے تاہم پولیس اور حساس ادارے دہشت گردوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انتہائی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آخر ان تینوں خطرناک دہشت گردوں پر چلائے جانے والے مقدمات کی جیل کے احاطے میں کیوں کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی؟ جبکہ پولیس اور حساس اداروں کو اس بات کا علم تھا کہ تکفیری دہشت گرد انتہائی خطرناک مجرم ہیں اور ان کو فرار کروانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔دوسری جانب تفتیش کار ٹیموں کو مکمل یقین ہے کہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کا سانحہ عاشورا میں اہم کردار تھا۔ تاہم حیرت انگیز بات ہے کہ پولیس اور جیل حکام کی جانب سے خاطر خواہ سیکورٹی انتظامات کے نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گرد احاطہ عدالت سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ انتہائی اہم ترین اور بڑے مقدمات میں اس طرح سے دہشت گردوں کی طویل غیر حاضری یا عدم گرفتاری کے باعث مقدمات کمزوری کا باعث بنتے ہیں اور اس کا فائدہ دہشتگردوں کو ملتا ہے۔مشاہدے میں آیا ہے کہ متعدد مقدمات میں گواہوں کی عدم دستیابی اور بیانات کو تبدیل کرنے یا عدالت میں پیش نہ ہونے اور دہشت گردوں کی جانب سے موت کی دھمکیوں کے خوف کی وجہ سے بھی سینکڑوں انسانوں کے قاتل دہشتگردوں کو آزادی مل جاتی ہے اور مقدمات کمزور ہو جاتے ہیں اور طویل مدت گذر جانے کی وجہ سے پولیس بھی گواہوں کے ساتھ اپنے روابط کو برقرار نہیں رکھ پاتی اور آخر کار مقدمات کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔سانحہ عاشورا سمیت کراچی میں دسمبر 2009ء میں محرم الحرام کے جلوسوں میں بم دھماکوں میں ملوث تکفیری دہشت گردوں کو 23جنوری 2010 کو ہاکس بے کے علاقے میں پولیس آپریشن کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے وقت تکفیری دہشت گردوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ایک مرتبہ پھر جلوس عزاء کو کار بم دھماکے کا نشانہ بنانے والے تھے۔گرفتار ہونے والے تکفیری دہشت گردوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کے تحت مقدمات کی تفصیل انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 3 کو بھیجے گئے تھے جہاں پر دہشت گردوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کریمنل کوڈ 265-C کے تحت دفعات چارج کی گئی تھی۔ تاہم دہشتگرد احاطہ عدالت سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔تکفیری دہشت گرد مرتضیٰ عرف شکیل اور ثاقب فاروقی یوم عاشورائے حسینی (ع) میں جلوس عزاء کے دوران بم دھماکہ کرنے میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ 8محرم الحرام کو پاپوش نگر میں جلوس عزاء میں ہونے والے بم دھماکے میں بھی ملوث ہیں ۔واضح رہے کہ پاپوش نگر دھماکے میں تین عزاداران امام حسین علیہ السلام زخمی ہوئے تھے۔تکفیری دہشت گرد مراد شاہ، حیدر، حسنین اور ساجد 9محرم الحرام کو اورنگی ٹاؤن میں دوران جلوس عزاء ہونے والے بم دھماکے میں ملوث تھے تاہم پولیس نے ان تمام دہشتگردوں کے خلاف مقدمات قائم کئے تھے۔ یاد رہے کہ اورنگی ٹاؤن میں جلوس عزاء کے دوران ہونے والے بم دھماکے میں سترہ عزاداران امام حسین علیہ السلام زخمی ہو گئے تھے۔تمام دہشت گردوں کے خلاف پہلے ہی سر سید پولیس تھانے میں دفعہ نمبر 4/5اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 7کے تحت دھماکہ خیز گولہ بارود رکھنے سمیت مقدمات درج تھے۔گو کہ سانحہ عاشورائے کراچی کو تین سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن پولیس ،رینجرز او ر قانون نافز کرنے والے اداروں سمیت حساس ادارے ابھی تک احاطہ عدالت سے فرار ہونے والے عاشورا بم دھماکے میں ملوث تکفیری دہشت گردوں کو گرفتار نہیں کر سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
19 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 373854
کراچی میں سانحہ عاشورا کے تین سال گزر جانے کے باوجود پولیس اور رینجرز سمیت حساس ادارے خونخوار دہشتگردوں کو گرفتار کرنے میں ناکام۔