ابنا: عالمی ادارہ صحت یونیسیف کے اعلامیے کے مطابق ایسے واقعات پاکستان کی آبادی کو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم کرسکتے ہیں، حکومت ہیلتھ ورکرز کے تحفظ کو یقینی بنائے۔صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان اور صوبہ خیبرپختونخوا کے بارے میں دنیا کو منفی تاثر دلانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے، اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیزپولیو کانفرنس میں پولیو ٹیموں پر حملوں کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔تفصیلات کے مطابق چارسدہ کی تحصیل شب قدر کے علاقے مزارئے میں نامعلوم افراد نے پولیو سپروائزر کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں خاتون سپروائزر اور ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ تھانہ بٹگرام کی حدود میں پیش آیا‘ ملزمان باآسانی فرار ہوگئے؛ پشاور کے داﺅد زئی کی علاقے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی پولیو اہلکار ہلال خان نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ادھر عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف نے پاکستان میں پولیو ٹیموں پر حملوں کے بعد فیلڈ آپریشن معطل کرتے ہوئے اپنے پولیوفیلڈ ورکرز کو کام سے روک دیا۔پشاور میں پولیو ٹیموں پر حملے کے بعدعالمی ادارہ صحت نے پاکستان بھر میں اپنے فیلڈ اسٹاف کو فوری کام بند کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تمام عملہ اپنی سرگرمیاں محدود کردے۔ اسلام آباد میں پولیوکانفرنس میں پولیوٹیموں پرحملوں کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اپنے بچوں کوبچانے اورانکی صحت کے لیے سب کوآگے آنا ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اورمذہبی جماعتیں متحد ہوجائیں تو پاکستان جلد پولیو فری ملک بن جائے گا۔ کراچی اور پشاور میں پولیو ورکرز کی ہلاکت پر عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرکے متنبہ کیا کہ ایسے واقعات پاکستان کی آبادی کو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم کرسکتے ہیں۔ چنانچہ حکومت انسداد پولیو کی مہم میں مصروف ہیلتھ ورکرز کے تحفظ کو یقینی بنائے تاکہ پاکستان میں بچوں کی صحت سے متعلق مدد حاصل کی جاسکے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراطلاعات میاں افتخارحسین نے پولیو کے قطرے پلانے والی اہلکاروں کے قتل کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان اور خصوصاً صوبہ خیبرپختونخوا کے بارے میں دنیا کومنفی تاثردلانے کی ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے واقعات کراچی اور کوئٹہ میں ہونے والے واقعات کے سلسلے کی کڑی ہیں جن کے پیچھے ایک منظم سازش نظرآتی ہے۔مزید برآں فرانس نے پاکستان میں انسداد پولیو کی 3 روزہ قومی مہم کے دوران پولیو ٹیموں پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے ۔بدھ کو فرانسیسی سفارتخانے سے جاری بیان کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ کے ترجمان نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ ان دہشتگرد حملوں کے مرتکب افراد کا سراغ لگایا جائے اور اس مہم کے لیے سیکورٹی اقدامات کو مضبوط کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
19 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 373791
خیبرپختونخوا میں دوسرے روز بھی انسداد پولیو ٹیموں کے ورکرز پر دہشتگردوں کی فائرنگ کے واقعات میں لیڈی سپروائز اور ڈرائیور سمیت 3 ورکرز قتل کردیے گئے، 2 روز میں ہلاکتوں کی تعداد 9 ہوگئی۔ تواتر سے حملوں کے ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف نے پاکستان میں فیلڈ آپریشن معطل کرکے پولیو ورکرز کو کام سے روک دیا۔