12 دسمبر 2012 - 20:30

کراچی میں تمام شیعہ جماعتوں نے شیعہ علماء کونسل کے دھرنے کی اپیل کی حمایت کر دی / دھرنے کے بارے میں بہت کچھ ۔۔۔ / کفن پوش ریلی / جینا ہوگا مرنا ہوگا دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا ۔۔۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کی رپورٹ  کے مطابق شیعہ جماعتوں بشمول مجلس وحدت مسلمین پاکستان، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جعفریہ لیگل ایڈ کمیٹی اور آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی، مرکزی تنظیم عزاء، پیام ولایت فاؤنڈیشن، سمیت دیگر شیعہ جماعتوں نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کی جانب سے  روز جمعہ (14 دسمبر)کے روزنمائش چورنگی ایم اے جناح روڈ کراچی میں شیعہ نسل کشی کے خلاف ہونے والے احتجاجی دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس بات کا اعلان آج کراچی پریس کلب میں ہونے والی شیعہ جماعتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔شیعہ علماء کونسل پاکستا ن کے صوبائی صدر مولانا ناظر عباس تقوی نے بدھ کے روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جمعہ کے روز نمائش چورنگی پر احتجاج شروع کیا جائے گا جبکہ ملک بھر اور کراچی میں شیعہ نسل کشی کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اور حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ شیعہ نسل کشی میں ملوث ناصبی دہشت گردوں کو فی الفور سزائے موت دی جائے۔اس موقع پر ان کے ہمراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل مولانا صادق رضا تقوی، جعفریہ لیگل ایڈ کمیٹی کے سربراہ تصور ایڈووکیٹ،شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا مرزا یوسف حسین اور شیعہ علماء کونسل کے علامہ جعفر سبحانی اور دیگر بھی موجود تھے۔ رہنماؤں کاکہنا تھا کہ وہ شیعہ علماء کونسل کی جانب سے شیعہ نسل کشی کے خلاف دھرنے میں مکمل ساتھ دیا جائے گا اور اگر حکومت نے دھرنے کو روکنے کی کوشش کی تو سخت نتائج برآمد ہوں گے۔شیعہ رہنماؤں کاکہنا تھا کہ ہم پر امن احتجاج کرنا چاہتے ہیں اگر حکومت نے ہمارے احتجاج میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو سندھ بھر کو ٹریفک کے لئے جام کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ چار ماہ میں ایک سو سے زائد شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ حکومت کی نا اہلی اور دہشت گردوں کی سرپرستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔علامہ ناظر تقوی کاکہنا تھا کہ حکومت پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے ۔ناصبی تکفیری دہشت گرد حکومتی اداروں کی سرپرستی میں شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہیں تاہم پاکستان کے شیعہ ملت جعفریہ کی مسلسل نسل کشی پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بن جائیں گے۔انہو ں نے مزید کہا کہ یہ حکومت اور سیکورٹی اداروں کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ناصبی تکفیری دہشت گردوں کے خلاف عملی اقدامات بروئے کار لائے اور اعلیٰ عدلیہ کو چاہئیے کہ ناصبی تکفیری دہشت گردوں کو اقرار جرم کے ساتھ ہی سزائے موت دی جائے ۔٭:سماجی نیٹ ورکس پر شیعہ نوجوانوں کے پیغامات:وصیت و نصیحت برائے مظلوم شیعان پاکستان مورخہ ١٢ ١٢ ١٢ کو جب دھرنے میں صرف اڑتالیس گھنٹے رہ گئے مولانا ناظر عباس تقوی کو ایک پیغام موصول ہوا جس میں ان کو دھرنے سے پہلے قتل کی دھمکی دی گئی جس کا جواب انھوں نے دے دیا اور کہا: "میں قتل بھی کیا جاؤں دھرنا ضرور ہوگا"، واضح رہے کہ اس دھرنے میں ـ جو کہ جمعہ سے غیر معینہ مدت تک کے لیے منعقد ہوگا ـ پاکستان کی تمام شیعہ تنظیمیں شرکت کر رہی ہیں۔٭شیعہ علما کونسل کی جانب سے 14 دسمبر کو کراچی میں نمائش چورنگی پر کفن پوش دھرنا دیا جا رہا ہے۔علامہ ناظر عباس نے کا کہنا ہے: ہم 10 افراد بھی ہوئے تو دھرنا دیں گے۔ شیلنگ ہو یا گولیاں چلے یا گرفتریاں ہو ہم ہر صورت دھرنا دیں گے، کچھ بھی ممکن ہے،، اب سردی گرمی کا بہانہ نہیں چلے گا، اب ناموس تک بات آگئی ہے، اب گھر سے نکلنا ہے، اس پاکستان میں وہی زندہ رہ سکتا ہے جو طاقت سے اپنا حق چھینا جانتا ہو۔۔٭:14 دسمبر کفن پوش دھرناشیعہ علما کونسل پاکستان کے علامہ ناظر عبّاس تقوی کا عوام کے نام خصوصی پیغام ،،،ہم 10 افراد بھی ہووے تو دھرنا دیں گے .شیلنگ ہو یا گولیاں چلے یا گرفتریاں ہو ہم ہر صورت دھرنا دیں گے ،کچھ بھی ممکن ہے ،،اب سردی گرمی کا بہانہ نہیں چلے گا ،اب ناموس تک بات آگیی ہے ،اب گھر سے نکلنا ہے ،اس پاکستان میں وہی زندہ رہ سکتا ہے جو طاقت سے اپن حق چھینا جانتا ہو٭:14 دسمبر دھرنے میں تمام ملی تنظیم شیعہ علما کونسل پیام ولایت ،امامیہ اسٹوڈنٹس ،جعفریہ الائنس ،شیعہ آکشن کمیٹی،بقیتہ اللہ،مجلس وحدت مسلمین،قیام،تنظیم عزا،پاسبان جعفریہ شامل ہوگی .اس سلسلے میں ایک اہم اور مشترکہ پریس کانفرنس 3 بجے کراچی پریس کلب میں منعقد ہوئی۔پریس کونفرنس سے شیعہ علما کونسل کے علامہ ناظر عبّاس تقوی نے کہا اگر حکومت نے دھرنے کو روکنے کی کوشش کی تو ہم نے اسکی سٹریٹیجی بھی ترتیب دے دی ہے جس کے تحت کراچی کی مرکزی شاہراؤں کو ملت جعفریہ کے نوجوان بند کر دین گے ،کچھ مطالبات ہم دھرنے کے وقت پیش کریں گے ،دھرنے کے تمام انتظامی امور کو ترتیب دے دیا گیا ہے ،دھرنا ہر حال میں ہوگا جس میں ملت جعفریہ کی تمام ملی تنظیمں اور ماتمی انجمنیں شرکت کریں گی۔۔۔۔۔۔۔

/110