ابنا: انھوں نے کہا: گذشتہ دنوں کراچی میں ایک لیڈی ڈاکٹر کو شہید کیا گیا اور اب ایک معصوم بچی کو والد کے ہمراہ ٹارگٹ کلنگ کرکے شہید کردیا گیا ہے، آئے روز نہتے معصوم شہریوں کو لقمہ اجل بنایا جا رہا ہے اور شہر قائد کراچی میں روزانہ 15 سے 18 لوگوں کا قتلِ عام معمول بن چکا ہے۔ اس کے باوجود قانونی دائرہ کار میں رہ کر عوام کو پرامن رہنے کی تلقین کئے ہوئے ہیں۔ قانونی دائرہ کار میں رہ کر پرامن احتجاج کرنا ہمارا قانونی حق ہے - انہوں نے کہا کہ ملک بهر اور کراچی میں جاری شیعہ نسل کشی، پے درپے ٹارگٹ کلنگ اور قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف شیعہ علماء کونسل جمعہ 7 دسمبر کو سندھ بھر میں یوم احتجاج منائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی روک تھام کیلئے اعلیٰ سطحی کمیشن کی ضرورت ہے جب تک عوام کے سامنے حقائق نہیں لائے جاتے اس وقت تک حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
6 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 370259
شیعہ علماء کونسل سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا ہے کہ اس وقت پورا پاکستان بالخصوص کراچی دہشت گردوں کے رحم وکرم پر ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں اب خواتین کو بھی نہیں بخشا جارہا۔