6 دسمبر 2012 - 20:30

جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں سرنگ بابا کی فوجی چوکی پر دہشت گردوں کا خودکش حملہ، شیعہ کیپٹن اقرار حیدر سمیت متعدد پاکستانی فوجی اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں؛ واضح رہے کہ مجاہد کیپٹن اقرار حیدر کی نماز جنازہ مسجد و امام بارگاہ ملیر کینٹ کراچی میں ہوگی۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی ذرائع نے لکھا ہے کہ جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا میں مسلح دہشت گردوں نے پاکستانی فورسز کی ایک چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں حکام کے مطابق چار اہلکار جاں بحق اور ایک زخمی ہوا جبکہ طالبان نے کہا ہے کہ 15 فوجی قتل کئے گئے ہیں۔یہ واقعہ لدھا تحصیل میں سام کے مقام پر پیش آیا ہے۔ دونوں جانب سے شدید فائرنگ بھی ہوئی۔ جھڑپ ایک بجے سے لے کر صبح پانچ بجے تک جاری رہی۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے قبول کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کے پندرہ اہلکار جاں بحق ہوئے۔ طالبان نے دہشت گردوں نے چھ فوجی اہلکاروں کو یرغمال بنانے اور سکیورٹی فورسز کا ایک ٹینک تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ عسکری ذرائع کا دعوی ہے کہ خودکش حملے کو ناکام بنا دیا گیا اور ساتھ ہی کہا ہے کہ "دھماکہ بارود سے بھری گاڑی سے کیا گیا" اور دھماکے کی شدت کے باعث زیڑی نور کیمپ کی دیواریں اور چھتیں گر گئیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آوروں کو زیڑی نور کیمپ کی طرف جاتے ہوئے کیمپ سے سو میٹر دور چیف پوسٹ پر ڈیوٹی پر موجود اہل کاروں نے  روکا جس پر دونوں حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ جنوبی وزیرستان تحریک طالبان اور اُن کے حامی جنگجوؤں کا ایک مضبوط گڑھ تھا جن کے خاتمے کے لیے سن 2009ء میں پاکستان فوج نے ’راہِ نجات‘ نامی بڑا آپریشن شروع کیا تھا۔عسکری حکام کے بقول اس قبائلی خطے کے زیادہ تر حصے پر حکومت کی عمل داری بحال کی جا چکی ہے تاہم اب بھی بعض مقامات پر عسکریت پسندوں کا غلبہ ہے جو وقتاً فوقتاً سرکاری افواج پر حملے کرتے ہیں۔تحریک طالبان کے ایک ترجمان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے تاہم جنوبی وزیرستان میں ذرائع ابلاغ کو رسائی حاصل نہیں اس لیے لڑائی کے بارے میں فریقین کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ سن 2009ء کے فوجی آپریشن سے فرار ہونے والے طالبان جنگجوؤں نے شمالی وزیرستان میں پناہ گاہیں قائم کر لی ہیں جہاں سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔اطلاعات کے ایک شیعہ کیپٹن اقرار حیدر بھی دھماکوں اور فائرنگ کے درمیان شہید ہوگیا ہے جبکہ گذشتہ سال کراچی میں پی این ایس مہران پر امریکی طالبان کے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا جن کے عزائم ایک شیعہ کیپٹن یاسر نے خاک میں ملادیئے تھے اور خود بھی جام شہادت نوش کر گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔

/110