2 دسمبر 2012 - 20:30

اسامہ بن لادن قتل کیس سے متعلق حکومت پاکستان کے خصوصی تحقیقاتی کمیشن نے ایک بیان میں پاکستان میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے پر زور دیا ہے۔

ابنا: دہشت گرد ٹولے "القاعدہ" کے سابق سرغنے اسامہ بن لادن کے قتل کیس سے متعلق حکومت پاکستان کے خصوصی تحقیقاتی کمیشن نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے ان کی آزادانہ سرگرمیوں پر پابندی اور اس سلسلے میں ضروری قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ 2/ مئی سنہ 2011 میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے خصوصی کمانڈوز کے خفیہ آپریشن میں القاعدہ دہشتگرد گروہ کے سابق اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے اس لیڈر کی خفیہ رہائش کے بارے میں حکومت پاکستان کا مبہم موقف اور اسی طرح بن لادن کو قتل کرنے کیلئے امریکی فوجیوں کا پاکستان میں داخل ہونا، یہ سب مسائل اس بات کا باعث بنے کہ پاکستان کی حکومت، دباؤ میں آکر اس کیس کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی کمیشن قائم کرنے پر مجبور ہوئی۔اس تحقیقاتی کمیشن نے اس سلسلے میں امریکی حکام اور ایبٹ آباد کے شہریوں سے حاصل ہونے والی اطلاعات کا جائزہ لینے کے علاوہ اسامہ بن لادن کے گھرانے، ملک کے سابق وزراء و فوجی حکام، سفارت کاروں اور نامہ نگاروں سے بھی بات چیت کی۔ بعض ذرائع کے مطابق اس کمیشن کی رپورٹ میں اس بات کا صراحتاً اعلان کیا گيا ہے کہ پاکستان کی حکمراں پیپلز پارٹی کو اپنے ملک میں القاعدہ کے سرغنے اسامہ بن لادن کے روپوش ہونے کا کوئی علم نہیں تھا تاہم اس کمیشن کا یہ تازہ بیان کہ پاکستان میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں سرگرم عمل ایک خفیہ ایجنسی امریکی سی آئی اے ہے جو پاکستان میں بلیک واٹر جیسی نجی سیکیورٹی کمپنی کے بھیس میں بھی جاسوسی کررہی ہے۔ جنوری سنہ 2011 میں لاہور میں امریکی سی آئی اے کے اہلکار ریمنڈ ڈیویس کے ہاتھوں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد اس ملک میں امریکی سی آئی اے کی جاری سرگرمیوں کی بناء پر حکومت اسلام آباد کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور پھر بن لادن کے قتل کیلئے امریکی کمانڈوز کے، بغیر اجازت پاکستان میں داخل ہونے سے دونوں ملکوں کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے اور تعلقات میں جاری بحران گذشتہ سال اس بات کا باعث بنا کہ حکومت پاکستان نے اپنے ملک میں امریکی سی آئی اے کی سرگرمیاں، جو بلیک واٹر کی شکل میں بھی سرگرم عمل تھی، محدود کردیں ۔ اس کے باوجود اس بات کی تشویش پائی جاتی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف مہم میں پاکستان پر وہائٹ ہاؤس کے عدم اعتماد کے پیش نظر امریکہ، دہشتگردوں کا پتہ لگانے کیلئے سی آئی اے کے اہلکاروں کو معمول کے مطابق پاکستان روانہ کرسکتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ القاعدہ جیسے دہشتگرد ٹولے کے سابق سرغنے اسامہ بن لادن کے قتل کیس سے متعلق حکومت پاکستان کے خصوصی تحقیقاتی کمیشن نے اپنے بیان میں پاکستان میں حکومت کی جانب سے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔/110