28 نومبر 2012 - 20:30

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے مستقل نمائندے نے کنیڈا اور چند دوسرے ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف انسانی حقوق کے حوالے سے منظور ہونے والی قرارداد کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جن ممالک نے ایران کے خلاف قرارداد پیش کی ہے وہ خود سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہیں/ چین روس اور برازیل سمیت متعدد ممالک نے قرارداد پر تنقید کی ہے۔

ابنا: اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے محمد خزاعی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف قرارداد پیش کرنے والوں کو اپنے اپنے ممالک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جواب دینا چاہیے؛ اقوام متحدہ کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں ایران میں انسانی حقو‍ق کی صورتحال کے بارے میں پیش ہونے والی قرارداد پر ووٹنگ کے موقع پر برازیل، چین، کیوبا، وینزوئلا، شام، شمالی کوریا، روس اور بیلا روس سمیت متعدد ممالک نے اقوام متحدہ کی قرارداد پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس طرح کی قراردادوں کو سیاسی اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔اس موقع پر برازیل کے نمائندے نے انسانی حقوق کے بارے میں ایران کے مثبت اقدامات سے چشم پوشی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کی امداد  جیسے مثبت اقدامات کا اس رپورٹ میں کوئی ذکر نہیں ہوا ہے جبکہ ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کے آثار ونتائج پر بھی کوئی توجہ نہیں ہوئی ہے۔روس کے نمائندے نے بھی ایران کے خلاف انسانی حقوق کی قرارداد کے مسودے کو نامناسب، انسانی حقوق کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے اور اسے کسی ملک کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا۔چین کے نمائندے کا بھی کہنا تھا کہ ہم نے اس قرارداد کو غیرمنطقی ہونے کی وجہ سے مسترد کردیا۔اس میں ذرا برابر شک نہیں کہ اس قرارداد کو  پیش کرنے والے ممالک کا مقصد انسانی حقوق کادفاع نہیں ہے بلکہ وہ اس ایشو کو ایران کے خلاف ایک حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں غیروابستہ تحریک کے رکن ممالک نیز او آئی سی تنظیم کے ممبران نے  بھی ایران کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کی سخت مخالف کی اور ایران کی بھرپور حمایت کااعلان کیا۔اس قرارداد کے بانیوں نے نہ صرف علاقے کی صورتحال کو نظر انداز کیا ہے بلکہ اس خطے میں انکے اپنے اتحادیوں کی طرف سے ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی پر بھی آنکھیں بند رکھیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے خلاف قرارداد پیش کرنے والے خود نہ صرف اپنے ممالک میں بلکہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں کررہے ہیں۔اسلام فوبیا ، پرامن احتجاجوں کو کچلنا، امتیازی رویے، مقامی آبادیوں کے حقوق پر عدم توجہ، سیاہ فاموں کے خلاف ظلم و ستم، گوانتانامو بے جیسے ٹارچر سیلوں کی موجودگی، ڈروں حملے اور ان جیسے سینکڑوں اقدامات جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں ہیں امریکہ اور کنیڈا جیسے ممالک کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔فلسطین میں غزہ کے نہتے شہریوں پر اسرائیل کی جارحیت اور ظلم و ستم آج کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار اسرائیل کا نام لیتے ہوئے تو گھبراتے ہیں لیکن ایران کے خلاف قرارداد منظور کرنے میں ذرہ برابر تاخیر نہیں کرتے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کو قوموں کے حقوق کا محافظ ہونا چاہیے اور اسے ایسی رپورٹیں مرتب کرنے اور نشر کرنے میں احتیاط کرنی چاہیے جو سیاسی اور سامراجی اہداف کے لئے تیار کی جاتی ہیں۔۔۔۔۔واضح رہے کہ قرارداد پیش کرنے والوں میں بچوں اور عورتوں کی قاتل صہیونی ریاست بھی شامل تھی اور یہی بات اس رپورٹ اور قرارداد کے ناقابل اعتماد ہونے کے لئے کافی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110