ابنا: لاہور کے علاقے شاہدرہ ٹاؤن میں دوا ساز کمپنی ریکو کے تیار کردہ کھانسی کے شربت کے استعمال سے مزید 3 افراد موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں جس کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 15 ہوگئی ہےجبکہ کئی متاثرہ افراد میو اسپتال میں زیر علاج ہیں۔پنجاب حکومت نے شربت پر فوری طور پر پابندی لگادی ہے جبکہ شاہدرہ پولیس نے ٹائنو سیرپ بنانے والی فیکڑی کوسیل کرکے 3 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران شربت کی بھاری مقدار بھی ضبط کرلی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی 3 رکنی کمیٹی نے بھی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ اسپتال میں زیر علاج مریضوں سے بات چیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کے سبراہ نجم سعید نے کہا کہ اگر کوئی شخص شربت کی پوری بوتل بھی پی جائے تو اس سے ہلاکت ممکن نہیں تاہم اس سلسلے میں مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقاتی رپورٹ تیارکرکے منظرعام پر لائی جائےگی ۔دوسری جانب محکمہ صحت پنجاب نے شاہدرہ ٹاؤن میں کھانسی کاشربت پینے سے ہونے والی ہلاکتوں کی ابتدائی رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھجوادی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ “ٹائنو” شربت زائد المعاید نہیں تھا۔ محکمہ صحت اپنا کام کررہا ہے تاہم دیگر اداروں کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں ادویات کو نشے کےطور پر استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110