18 نومبر 2012 - 20:30

جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمایندے نے آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان آیندہ مذاکرات کی کامیابی کو بحران اور کشیدگی سے اجتناب سے مشروط کیاہے۔

ابنا: آئی اے ای اے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مندوب علی اصغر سلطانیہ نے ایسنا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایران کے جوہری مسئلے سے متعلق بعض باقیماندہ مسائل کے حوالے سے گفتگو جاری رکھنے کے لئے  آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات کی کامیابی کی شرط یہ ہے کہ بحران کھڑا نہ کیا جائے اور کشیدگی سے اجتناب کیا جائے۔ سلطانیہ نے کہا: آنے والے مذاکرات میں آئی اے ای اے حتمی طور پر اپنے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے عمل کرے۔انھوں نے کہا: 13 دسمبر2012 کے  مذاکرات کا موضوع ایران کی پر امن جوہری سرگرمیوں کے خلاف بعض دعوؤں سے پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا جائزہ لینا ہے۔  انھوں نے ایران کے حوالے سے آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا آمانو کی حالیہ رپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ سے صاف نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران کی تمام جوہری سرگرمیاں منجملہ یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر آئی اے ای اے کی نگرانی میں انجام پارہی ہیں اور ان میں کسی قسم کے فوجی اہداف کا پتہ نہیں چلایا جا سکا ہے۔ ۔۔۔۔۔/110