9 نومبر 2012 - 20:30

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ اتحاد و وحدت قرآنی حکم اور نبوی فریضہ ہے۔ دور حاضر میں امت مسلمہ کو امت واحدہ کا تصور اجاگر کرتے ہوئے اپنے اتحاد ووحدت اور اسلامی بیداری کو فروغ دینا ہوگا تاکہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف ہونے والی سازشوں اور ناپاک منصوبوں کا مقابلہ اور تدارک کیا جاسکے۔

ابنا: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ’’عالمی علماء و مشائخ کانفرنس‘‘ اس حوالے سے سنگ میل ثابت ہوگی اور اس میں عالمی اسلامی تحریکو ں کی رہنماؤں کی شرکت کے ذریعہ نہ صرف اسلامی دنیا کو باہم مل کر تبادلہ خیال کا موقع ملے گا بلکہ وطن عزیز پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، اتحاد و وحدت اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ کا سبب ثابت ہوگا۔اپنے بیان میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ اپنی اہمیت کے اعتبار سے منفرد نوعیت کی حامل کانفرنس میں اسلام دشمنوں کے گستاخانہ اور توہین آمیز اقدامات کے سدباب کے لئے اجتماعی موقف کا تعین، امت مسلمہ کے مابین وسیع تر اور ہمہ گیر اتحاد کے لئے غور و فکر اور لائحہ عمل کی تیاری، امت مسلمہ کی ترقی و ارتقا کے لئے ترجیحات کا جائزہ، دین اسلام کی آفاقی تعلیمات کی تبلیغ و اشاعت کے لئے حکمت عملی کی تیاری اور مسلمانوں کے مابین قربت و ہم آہنگی کے مزید اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔سربراہ شیعہ علماء کونسل نے یہ بات زور دے کر کہی کہ امت مسلمہ کو جس قدر اتحاد و وحدت کی ضرورت آج ہے اس سے قبل کبھی بھی نہیں رہی۔ محرم الحرام کی آمد آمد ہے۔ نواسہ رسول اکرم ؐ ، امام عالی مقام کسی ایک مکتب یا مسلک نہیں بلکہ پوری امت کے پیشوا اور امام ہیں۔ ایام عزا میں عوام کی شہری آزادیوں اور مذہبی و قانونی حقوق کا خیال کرتے ہوئے غیر قانونی رکاٹوں سے اجتناب کیا جائے اور تمام مکاتب و مسالک کو مل کر مراسم عزا کو عقیدت و احترام سے منانے کے لئے ریاست اور انتظامی ادارے تعاون کریں اور عوام موجودہ سنگین حالات میں اپنی صفوں میں اتحاد و وحدت برقرار رکھتے ہوئے شرپسند عناصر کے عزائم کو خاک میں ملا دیا جائے۔...../169