8 نومبر 2012 - 20:30

ایک بحرینی سیاستدان نے 31 شہریوں کی شہریت کی منسوخی اور ساتھ ہی آیت اللہ شیخ احمد عیسی قاسم کو دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے کی افواہیں اڑانے جیسے اقدامات کو آل خلیفہ کے مزیدہ خطرناک اقدامات کا پیش خیمہ قرار دیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یحیی الحدید نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: منامہ میں مشکوک دھماکوں کے موقع پر ہی، خلیفی چیف جسٹس سعودی دارالحکومت ریاض سے واپس آیا جو ان دھماکوں میں آل خلیفہ کے کرائے کے ایجنٹوں کے ملوث ہونے کا ثبوت ہے۔واضح رہے کہ پانچ نومبر2012 کو علی الصبح دارالحکومت منامہ میں "القضیبیہ" اور "العدلیہ" میں پانچ دھماکے ہوئے جن میں دو بحرینی شہریت یافتہ ایشیائی باشندے جاں بحق ہوئے اور ایک زخمی بھی ہوا اور دلچسپ امر یہ ہے کہ ان دھماکوں میں نہ تو آل خلیفہ یا آل سعود کے مسلح گماشتوں کو کوئی نقصان پہنچا نہ ہی آل خلیفہ کے خاندان کے کسی فرد کونشانہ بنایا گیا۔ آل خلیفہ خاندان نے تین ہفتے قبل بھی ایک غیر ملکی پولیس اہلکار کی ہلاکت کا دعوی کرکے العکر کے علاقے کا دو ہفتوں تک غذائی محاصرہ کیا اور یہ محاصرہ شدید مگر پر امن عوامی مزاحمت کی وجہ سے اٹھایا گیا۔مذکورہ مشکوک دھماکے بحرین کے پر امن انقلاب کے فلسفے سے بھی متصادم ہیں کیونکہ انقلاب کے راہنماؤں نے فروری 2011 سے شروع ہونے والے انقلاب کو پر امن طور پر جاری رکھنے کا عزم کررکھا ہے اور آل خلیفہ خاندان اپنے سعودی، صہیونی، امریکی، برطانوی اور فرانسیسی مشیروں کے کہنے پر اب خود ہی تشدد آمیز کاروائیاں کرکے ان کا الزام بحرینی انقلابیوں پر عائد کرتا ہے تا کہ ان کے خلاف غیرانسانی اقدامات کا جواز فراہم کیا جاسکے۔ الحدید نے کہا: آل خلیفہ کی طرف سے مخالفین اور بحرین کی سیاسی شخصیات کی شہریت کی منسوخی کو آل خلیفہ حکومت کے خوف کا نتیجہ ہے۔انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت ملک کے سیاسی جغرافئے میں تبدیلی کی سازش پر کام کررہی ہے اور وہ اپنے مخالفین کو ملک سے نکال کر اپنے کرائے کے حامی بیرون ملک سے لاکر شہریت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا: یمن کے دارالحکومت صنعا میں واقع آل خلیفہ کے سفارتخانے سے بعض اہم دستاویزات کا انکشاف ہوا ہے کہ آل خلیفہ حکومت نے یمنیوں کو اپنی فوج میں بھرتی کرنے کے لئے انہیں بحرینی شہریت دی ہے۔ انھوں نے کہا: ایسی اطلاعات بھی شائع ہوئی ہیں کہ سعودی حکومت ہزاروں پاکستانی باشندوں کو بحرین لاکر انہیں بحرینی شہریت دلوارہی ہے۔ انھوں نے کہا: شہریوں کی شہریت کی منسوخی قانون کے خلاف ہے اور یہ نہ تو قانون کے مطابق ہے اور نہ ہی عدلیہ نے اس سلسلے میں کوئی فیصلہ سنایا ہے چنانچہ اس موضوع کو عدلیہ میں زیر بحث لانا چاہئے۔ یحیی الحدید نے شہریت کے سلسلے میں انسانی حقوق کے عالمی اعلامئے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس اعلامیئے کے مطابق کوئی حکومت بھی اپنے شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کا حق و اختیار نہيں رکھتی اور آل خلیفہ حکومت نے یہ اقدام کرکے درحقیقت اپنے آپ کو عظیم خطرات میں ڈال دیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110