حسن خراز سے روايات ہے: ميں نے امام رضا عليہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا: ہماري محبت و دوستي کا دعوي کرنے والوں سے بعض لوگوں کا ضرر ہمارے شيعوں کے لئے دجال کے نقصانات سے بھي بڑھ کر ہے- ميں نے عرض کيا: اے فرزند رسول خدا (ص)! اس بات کا سبب کيا ہے؟فرمايا: کيونکہ وہ ہمارے دشمنوں کے دوست ہيں اور ہمارے دوستوں کے دشمن ہيں اور جب ايسا ہوجائے تو حق و باطل خلط ملط ہوجاتا ہے اور امر مشتبہ ہوجاتا ہے اور مؤمن کو منافق سے تميز دينا دشوار ہوجاتي ہے- صفات الشيعہ ص8-وضاحت: جب شيعہ کہلانا والا شخص اہل بيت عليہم السلام کے دشمنوں کا دوست بھي ہو اور ان کے دوستوں کا دشمن بھي ہو اس کي وجہ سے فتنہ پيدا ہوتا ہے اور فتنے کي تعريف يہ ہے کہ اس کے دوران حق اور باطل ميں تميز کرنا مشکل ہي نہيں بہت سے لوگوں کے لئے ناممکن ہے-مامون نے حضرت علي ابن موسي الرضا عليہ السلام سے پوچھا: آپ اپنے جد اميرالمؤمنين عليہ السلام کي خلافت کے لئے کيا دليل پيش کرسکتے ہيں؟امام عليہ السلام نے فرمايا: سورہ مباہلہ ميں لفظ "انفسنا ميرے جد اميرالمؤمنين عليہ السلام کي خلافت کي دليل ہے-مامون نے کہا: آپ کي دليل درست ہوتي بشرطيکہ آيت ميں "نسائنا" کا ذکر نہ ہوتا!-امام عليہ السلام نے فرمايا: آپ کا اعتراض بھي صحيح ہوتا بشرطيکہ آيت ميں "ابنائنا" کا ذکر نہ ہوتا- اور مامون خاموش ہوگيا- اس سوال اور جواب ميں خاص قسم کي ظرافت اور باريکي ملحوظ رکھي گئي ہے- حضرت علي ابن موسي الرضا عليہ السلام فرماتے ہيں کہ آيت شريفہ "فمَنْ حَاجَّکَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَکُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَکُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْکاذِبينَ"، (سورہ آل عمران آيت 61) ميں لفظ نسائنا سے اميرالمؤمنين عليہ السلام کي خلافت ثابت کي جاسکتي ہے- کيونکہ انفسنا سے اميرالمؤمنين عليہ السلام مراد ہيں اور ان کے سوا کوئي مقصود نہيں ہوسکتا- ...کيونکہ جب اميرالمؤمنين عليہ السلام رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي جان ہيں تو ان سے زيادہ اہليت و اولويت کسي اور کو حاصل ہو ہي نہيں سکتي اور اميرالمؤمنين خلافت کے حقيقي حقدار ہيں اور دوسروں سے ان کا فياس کرنا بھي ممکن نہيں ہے- تشريح:امام نے فرمايا کہ انفسنا اميرالمؤمنين عليہ السلام کي خلافت برحق کي دليل ہے کيونکہ انفسنا سے مراد علي عليہ السلام کے سوا کوئي بھي اور نہيں ہے-مامون نے کہا ہے کہ يہ بات صرف اس وقت صحيح ہوسکتي کہ آيت ميں "نسائنا" (ہماري خواتين) کا ذکر نہ ہوتا يعني يہ کہ انفسنا سے مراد علي عليہ السلام نہيں بلکہ عام مسلمان مرد ہيں اور اس کي دليل يہ ہے کہ آيت ميں "نسائنا" کا لفظ آيا ہے جس سے مراد مسلمان خواتين ہيں!- يعني ہمارے مرد اور ہماري خواتين...اور امام رضا عليہ السلام نے اس اعتراض کا جواب يوں ديا ہے کہ اگر انفسنا سے مراد عام مسلمان مرد ہوتے اور علي عليہ السلام مراد نہ ہوتے تو پھر آيت ميں "ابنائنا" (ہمارے بيٹے)، ذکر کرنا ضروري نہ ہوتا کيونکہ ابنائنا خود بخود انفسنا ميں شامل ہوتے اور ابنائنا انفسنا ميں شامل ہوتا اور يہ اس بات کي دليل ہے کہ انفسنا سے مراد ايک خاص مرد ہے اور وہ خاص مرد اميرالمؤمنين عليہ السلام کے مبارک وجود کے سوا کوئي بھي نہيں ہے- اور پھر مامون کي طرف سے نسائنا سے استناد بھي درست نہيں ہے کيونکہ نسائنا سے مراد تمام مسلم خواتين نہيں ہيں بلکہ صرف حضرت سيدہ فاطمہ سلام اللہ عليہا مراد ہيں اور اس کي دليل يہ ہے کہ جب نساء کے مقابلے ميں ابناء کا لفظ آئے تو نسائنا سے مراد خواتين نہيں بلکہ لڑکياں ہونکي جيسا کہ سورہ بقرہ کي آيت 49 ميں ارشاد ہوتا ہے کہ "يُذَبِّحُونَ أَبْناءَکُمْ وَ يَسْتَحْيُونَ نِساءَکُمْ"- فرعون اور اس کے پجاري تمہارے لڑکوں کو ذبح کراتے ہيں اور تمہاري لڑکيوں کو زندہ رکھتے ہيں- مامون کے شبہہ آميز اعتراض کا ايک جواب يہ ہے کہ اگر انفسنا سے مراد امت کے تمام مرد ہوتے اور ان مردوں کي جانب سے ايک مرد کا مباہلے ميں شريک ہونا کافي تھا تو پھر علي عليہ السلام کي شرکت کي ضرورت کيوں پڑي اور پھر آيت ميں رسول اللہ انفسنا اور ابنائنا کي کيا ضرورت تھي جبکہ رسول اللہ (ص) خود بھي يہ فريضہ سرانجام دے سکتے تھے اور امت کے مردوں کي نمائندگي کرسکتے تھے؟
منبع:القطره: ج1، مناقب امام رضا عليه السلام؛ بحار الانوار: ج36، ص171، ح160-
...............
/110