ابنا: روس کے وزير خارجہ نے صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ شام کے بارے ميں ہونے والا جنيوا معاہدہ سلامتي کونسل کے پانچ مستقل ارکان، يورپي يونين، عرب ليگ، ترکي اور اقوام متحدہ کے نمائندے کے اتفاق رائے سے طے پايا تھا لہذا انکا ملک اس معاہدے ميں ترميم يا تحريف کي ہرگز قبول نہيں کرے گا-سرگئي لاوروف کا کہنا تھا کہ بعض شرکا يہ تجويز پيش کر رہے ہيں کہ اس معاہدے پر عملدرآمد سے قبل صدر بشار اسد کو حکومت چھوڑ دينا چاہيے جس کے صاف معني يہ ہيں کہ انہيں شام کے عوام کي جانوں کي کوئي فکر نہيں ہے بلکہ وہ صرف صدر اسد کو ان کے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہيں-روس کے وزير خارجہ نے اس مطالبے کو غير منطقي قرار ديتے ہوئے کہا کہ يہ بات پوري طرح واضح ہے کہ دنيا کا کوئي ذمہ دار سياستدان ايسے مطالبے کو تسليم نہيں کرسکتا-سرگئي لاو روف نے ايک بار پھر اپنے ملک کے اس موقف کا اعادہ کيا کہ شام ميں تشدد اور بدامني کا سلسلہ فوري طور پر بند ہونا چاہيے- انہوں نے کہا کہ شام کے معاملے ميں الجھے تمام فريقوں کے لئے اگرعام لوگوں کي جان و مال اہميت رکھتي ہے تو انہيں تشدد کا سلسلہ فوري طور پر بند کردينا چاہيے-روس کے وزير خارجہ نے مزيد کہا کہ مذاکرات کے لئے ضروري ہے کہ تشدد اور بدامني کا سلسلہ روکا جائے تاکہ مذاکرات کے لئے ماحول کو سازگار بنائے جاسکے-...../169
7 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 363230
روس کے وزير خارجہ سرگئي لاو روف نے کہا ہے کہ انکا ملک شام کے صدر بشار اسد کي برطرفي کو جنيوا معاہدے پر عملدرآمد کي پيشگي شرط کے طور پر ہرگز قبول نہيں کرے گا-