ابنا: اقوام متحدہ کے ہائي کمشنر برائے پناہ گزیناں کے مطابق میانمار کے جنوبی علاقے میں لگائے گئے ان کیمپوں میں زندگي کے ابتدائي ترین وسائل بھی موجود نہیں ہیں۔ اس ادارے کےمطابق انتھا پسند بودھوں کے حملوں کی بناپر مسلمان علاقوں سے ایک تہائي افراد گھر با چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائي کمشنر برائے پناہ گزیناں کے مطابق حالات روز بروز بگڑتے ہی جارہے ہیں، پناہ گزینوں کی تعداد کیمپوں کی گنجائش سے زیادہ ہوچکی ہے اور اشیاء خورونوش کے داموں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کی تعداد بھی نہایت کم ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں آیا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں کے ترک وطن کےنتیجے میں غذائي اشیاء اور ادویہ کی شدید قلت کی بنا پر انسانی المیہ کا خدشہ ہے۔ دراین اثنا العالم نے رپورٹ دی ہےکہ راخین صوبے سے مسلمان کشتیوں پر سوار ہوکر فرار ہو رہے ہیں لیکن ہرکشتی اپنے مقصد تک نہیں پہنچتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق میانمار کے مسلمانوں کی ایک کشتی جس پر ایک سو تیس افراد سوار تھے ڈوب گئي ہے۔ واضح رہے میانمار کی حکومت مسلمانوں کو اقلیت کا درجہ نہیں دیتی۔ میانمار کی حکومت نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہےکہ مسلمانوں کے لئے پناہ گزیں کیمپ قائم کرے۔ عالمی حلقوں نے میانمار میں مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کی مذمت کی ہے۔ ...../169
2 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 361857
میانمار میں انتہا پسند بودھوں کے حملوں سے جاں بچاکر پناہ گزیں کیمپوں میں پناہ لینے والے مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ دس ہزار تک پہنچ گئي ہے۔