ابنا: انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میانمار میں فرقہ وارانہ ہماہنگي قائم کرنے کے لئے مدد کرنے کو تیار ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت ناوابستہ تحریک کا صدر ہے اور اسی بناپر مسلمانوں کے امور کو نہایت اہمیت دیتا ہے اور اس سلسلے میں اس کی ذمہ داری دوگني ہوچکی ہے۔ واضح رہے میانمار کے صوبہ راخین میں جون سے تشدد شروع ہوا ہے اور گذشتہ دس دنون میں تقریبا تین سو مسلمان مسلم کش فسادات میں جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہوچکےہیں۔ گذشتہ برسوں میں میانمار کے ہزاروں مسلمان بودھ انتھا پسند گروہوں کی تشدد آمیز کاروائيوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ ان اقدامات کو میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی کہا جاسکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نسل کشی سے بچ کر بھاگنے والے مسلمانوں نے سرحدی علاقوں اور بنگلادیش میں پناہ لے لی ہے اور وہ نہایت ہی افسوس ناک حالات میں زندگي گذار رہے ہیں۔ کچھ تارکین وطن کشتیوں پرسوار ہوکر پناہ لینے نکلے تھے لیکن بے رحم سمندر کی سنگ دل امواج انہیں نہ جانے کہاں لے گئيں اور اب ان کا کوئي پتہ نہیں ہے۔ یہ تلخ واقعات ایسے عالم میں سامنے آرہے ہيں کہ مسلمانوں کو میانمار میں کسی بھی طرح کا قانونی تشخص اور حیثیت حاصل نہیں ہے اور اس ملک کی حکومت انہیں مذہبی اقلیت کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتی ہے۔ میانمار میں انیس سو بیاسی کے قانون کے مطابق اس ملک میں بسنے والی ایک سو چوالیس قوموں میں سے نو قوموں کو شہری حقوق سے محروم کردیا گيا جن میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ مسلمانوں کے سب سےبڑی اقلیت ہونے کے باوجود انہیں شہری حقوق سے محروم کرکے ان کے نسلی تصفیے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عالمی قوانین کے مطابق میانمار میں مسلمانوں کو مکمل حقوق دئےجانے چاہیں لیکن حکومت میانمار آٹھ لاکھ افراد پر مشتمل مسلمان اقلیت کو ملک سے نکال کر اس مسئلے ہی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ اب عالمی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہےکہ وہ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق میانمار میں مسلمانوں کو حقوق دلوائيں لیکن اقوام متحدہ نے میانمار کی پولیس کے تشدد آمیز اقدامات کی تحقیقات کرانے کے علاوہ اور کوئي مطالبہ نہیں کیا ہے اور بان کی مون اس ہی مطالبے کی تکرار کررہے ہیں البتہ انہوں نے اپنی تشویش کو وارننگ کی حدتک بڑھادیا ہے۔ یاد رہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان نے میانمار کے مسلمانوں کی بپتا پر اب تک کوئي رد عمل ظاہر نہیں کیا بلکہ مسلسل خاموش ہیں۔ میانمار کے مسلمانوں کے حالات پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہےکہ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں نیز انسانی حقوق کے دعویدار ملکوں نے مسلمانوں کے مسائل کے تعلق سے ہمیشہ دوہرا رویہ اپناکر قوموں کو مزید ظلم و ستم کا شکار بنایا ہے جس میں ہمیشہ قوموں کا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ میانمار کی حکومت بھی ان حالات سے غلط فائدہ اٹھا کر ایسے حالات پیدا کردئے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس ترک وطن یا اقوام متحدہ کے کیمپوں میں زندگي گذارنے کے علاوہ کوئي چارہ نہیں بچا ہے بنابریں میانمار کے بھیانک مسلم کش فسادات کو فلسطین اور بوسینا ہرزگوئينا میں نسل کشی کی طرح ہی سمجھنا چاہیے۔
.....
/169