ابنا: غیرملکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یانگون میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی "آشوک نیگان" نے آج کہا کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میانمار کی مغربی ریاست راکھان میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں 22ہزارسے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ شدت پسند بدھسٹوں نے مسلمانوں کے 4665 گھروں کو آگ لگا دی ہے۔ انہوں نے اس علاقے میں مسلمانوں کی حالت کو تشویشناک بتایا ۔میانمار میں گذشتہ ہفتے سے شروع ہونیوالے فسادات کے دوران ابتک 112 مسلمانوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے ۔ادھر انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے میانمار کے مغربی علاقوں میں نسلی فسادات میں ہونے والی تباہی کی مبینہ تصاویری ثبوت پیش کردیئے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے جو سیٹلائٹ تصاویر دی ہیں ان سے مغربی میانمار میں ایک کمیونٹی کی زبردست بربادی کے پختہ ثبوت ملے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے میانمار کی حکومت سے ریاست راکھان میں تشدد روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔...../169
27 اکتوبر 2012 - 20:30
News ID: 360326
میانمار میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی تازہ لہر کے دوران کم از کم 22 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔