اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق عقاب صقر اور وسام الحسن شام میں اسرائیل اور امریکہ کے خفیہ مشن پر تھے اور وہ قطر سے موصولہ مالی امداد باغیوں کے حوالے کرنے کے لئے باغیوں کے ایک ٹھکانے پر شامی افواج کے حملے میں مارے گئے؛ وسام کی لاش بیروت دھماکے کے وقت ترکی میں تھی/ ترکی سے منتقل کرکے ایک کار میں رکھی گئی تھی جس کو بم سے اڑایا گیا!!!لبنان کی اندرونی سلامتی کے انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ بریگیڈيئر وسام الحسن کے قتل کے بارے میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں جن کی اگرچہ ابھی تصدیق کرنا مشکل ہے لیکن یہ اطلاعات قابل توجہ ضرور ہیں جن کے مطابق وسام الحسن 14 مارچ دھڑے کے رکن پارلیمان عقاب صقر کے ہمراہ شام ترکی سرحد کے قریب شام مخالف دہشت گردوں کو ایک ٹھکانے میں موجود تھے جو شامی افواج کے اچانک حملے کا نشانہ بنا جس میں کئی وسام الحسن اور ان کے دوست و رفیق کار و لبنانی رکن پارلیما عقاب صقر سمیت کئی ترک اور قطری افسر اور متعدد دہشت گرد مارے گئے یا زخمی ہوئے۔ اس سلسلے میں مختلف رپورٹوں کے اقتباسات دیکھئے:وسام الحسن کہاں مارے گئے؟ عقاب صقر کہاں ہیں؟مڈل ایسٹ پانوراما نے لکھا: اندرونی انٹیلجنس کی شاخ کے سربراہ وسام الحسن لبنان میں امریکی سی آئی اے کا سب سے اہم اور مضبوط ستون سمجھے جاتے تھے اور موجودہ حالات اس قسم کی شخصیت کے قتل کی اجازت نہيں دیتے تھے کیونکہ وہ شام میں ان بہت سی معلومات، ہدایات اور سیلوں کے بارے میں دقیق معلومات کی کنجی تھے جو شام میں قتل و غارت اور تخریب کاری اور دھونس دھمکیوں میں مصروف ہیں۔ اچانک ٹی وی پر خبروں دیکھتے ہیں کہ بریگیڈيئر وسام الحسن بیروت کے سیسین اسکوائر پر دھماکے میں مارے گئے ہیں! وسام کی لاش کے کوئی باقیات ـ سوائے ایک گھڑی کے یا پھر ایک بندوق کے ـ ان کی لاش سے ہاتھ نہيں آئے حالانکہ ان کی کار ایک کار بم دھماکے کا نشانہ بنی تھی جبکہ ان کی اپنی کار کے اندر دھماکہ نہیں ہوا تھا۔ ایک خبر: ترکی میں عقاب صقر حملے کا نشانہ بنے؛ حقیقت کیا ہے؟عقاب اور وسام درحقیقت ایک اعلی انٹیلجنس مشن پر شام میں کام کررہے تھے اور وہ سی آئی کے اے، ترک انٹیلجنس اور قطر اور سعودی عرب کے بعض ایجنٹ بھی ان کے ہمراہ تھے اور جاسوسی مواصلاتی اسٹیشنز اور اطلاعات بھیجنے اور وصول کرنے کے آلات کی تنصیب کے لئے وہاں تھے جن کی تربیت وسام نے حال ہی میں امریکہ میں حاصل کی تھی تا کہ وہ اس سلسلے میں دہشت گردوں کی مدد کرسکیں۔اگلی جنگ کے لئے تیاری کے مقصد سے جو ترک حکومت بہت جلد شام کے خلاف شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کی بنا پر ترک حکومت ہر اس حرکت کو تکنیکی اور فوجی و تربیتی رسد پہنچانے میں مصروف عمل ہے جو شام کے خلاف عمل میں لائی جاتی ہے۔شام کی عرب افواج معمول کے مطابق ادلب صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کلیرنگ آپریشن میں مصروف تھی اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا سراغ لگا لگا کر انہيں نشانہ بنارہی تھی جب وہ ٹھکانہ بھی سرکاری فورسز کی کاروائی کی زد میں آگئی جہاں وسام الحسن سمیت مذکورہ بالا مجموعہ موجود تھا جہاں وسام حسن سمیت متعدد عناصر ہلاک ہوئے اور کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ دہشت گرد زخمیوں کو ترکی لے گئے لیکن ہلاک شدگان کے بکھرے ہوئے چتڑے اور ٹکڑے اپنے روز کے معمول کے مطابق پیچھے چھوڑ گئے۔ اب البتہ یہ سوال سوال ہی ہے کہ صقر ہے کہاں؟
یاد رہے کہ صقر وہی شخص ہے جس کے گھر اور دفتر سے اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے کے شواہد برآمد ہونے پر وہ 2009 میں اسرائیل بھاگ گئے تھے!! اور آج قطر کی مالی امداد دہشت گردوں تک پہنچانے کی کاروائی میں ملوث ہیں!! گویا دوست کا دوست دوست ہوتا ہے۔اس کاروائی کی شدت و قوت اور اس کو خفیہ رکھنے کے عدم امکان کو مد نظر رکھ کر، امریکی سی آئی اے ایجنٹوں نے بیروت کے سیسین اسکوائر پر ایک دھماکے کا انتظام کیا جس کے نتیجے میں جو لوگ ہلاک ہوئے وہ عام بےگناہ راہگیر تھے جن کا اس قصے سے اتنا ہی تعلق تھا کہ سازشی بم دھماکے کے دوران وہ موقع پر موجود تھے۔بعض شامی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ دعوی کررہے ہیں کہ وسام الحسن بیروت کے دھماکے میں مارے گئے ہیں وہ ان باقیات کا ڈی این اے ٹیسٹ کروائیں جن کا تعلق ان کے دعوے کے مطابق وسام الحسن کے جسم سے ہے۔ اگر انہیں اپنے دعوے پر اعتماد ہے تو یہ چیلنج قبول کریں۔اور کرائے کے ایجنٹوں نے موقع سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور اس کو استعفی دینے پر مجبور کرنے کے لئے فتنہ انگیزي کا سہارا لیا تا کہ لبنان کو ایک بار پھر سیاسی خلاء اور مبہم مستقبل سے دوچار کردیں۔ لیکن مغربی ممالک کو منتقل ہونے والی خطرات کی خبریں ـ کہ اگر لبنانی حکومت گرگئی تو اس ملک میں ایسی آگ بھڑکے گی جس کے نتیجے میں ہر خشک و تر جل کر راکھ ہوجائے گا ـ موجودہ صورت حال پر مغربی موقف کے جمود کا سبب بن گئیں اور 14 مارچ دھڑے کی تمام تر کوششوں کے باوجود، حکومت گرنے سے بچ گئی اور حکومت کو گرانے کے لئے اس دھڑے کی تمام تر دعوتیں خاک میں مل گئیں۔جو نقصان ١٤ مارچ دھڑے کو اٹھانا پڑا ہے وہ درحقیقت بڑے بڑے زلزلوں پر منتج ہوگا اور پورے علاقے میں بیرونی ایجنٹوں کے تمام مراکز پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہونگے۔متاثرین کو چاہئے کہ وہ اپنے حقوق کا شدت سے مطالبہ کریں کیونکہ ان کے فرزند پہلے سے تیارکردہ ایک کھیل کے اندرداخل ہوگئے تھے اور ایسا نہیں ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں اور تشہیر کرتے ہیں۔عبداللہ آلبوغبیش کی یاددادشت:وسام الحسن بیروت میں قتل نہيں ہوئے!مشرق وسطی کے ماہر عبداللہ آلبوغبیش نے اپنی ایک یادداشت "لبنان میں سیاست سے سلامتی تک" میں لکھا ہے کہ وسام الحسن اور ان کے ساتھی عقاب سقر بیروت دھماکے میں ہلاک نہیں ہوئے بلکہ ان کی لاشیں ترکی سے بیروت منتقل کی گئی تھیں۔ عبداللہ آلبوغییش لکھتے ہیں: ایک موضوع جو گذشتہ دو روز میں منظر عام پر آیا لیکن ذرائع نے اس کو کوریج نہيں دی یہ تھا کہ وسام الحسن اور عقاب صقر ترکی ـ شام سرحد پر مارے گئے ہیں اور یہ کہ وسام مبینہ دہشت گردانہ کاروائی سے تین دن قبل ترکی اور شام کے سرحدی علاقوں میں مارے گئے تھے جبکہ عقاب صقر زخمی ہوئے تھے اور وسام کی موت سے اسرائیل اور مزاحمت محاذ کے لئے خلاف فائدہ اٹھانے کے لئے ان کی لاش ترکی سے بیروت لائی گئی اور ان کی گاڑی کو جمعہ کے روز بم سے اڑایا گیا۔ عقاب صقر لبنان کے رکن پارلیمان اور قطر و سعودی عرب کی مالی امداد شام میں سرگرم دہشت گردوں کے درمیان بانٹنے کے ذمہ دار فرد ارشد الحسن کے معاون تھے۔ ادھر مشرق وسطی کے مسائل پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ "المانیتور" نے لکھا کہ جس روز بیروت میں دھماکہ ہوا وسام کے قریب ترین اہل خانہ کو بھی معلوم نہ تھا کہ وہ بیروت میں ہیں اور ان سب کو معلوم تھا وسام لبنان سے باہر ہیں اور ان کو باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ وسام بیرون ملک سے ملک میں داخل ہوتے ہی دہشت گردانہ کاروائی کا نشانہ بنے ہیں حالانکہ اس سے قبل کہا گیا تھا کہ وہ گھر سے دفتر کے راستے میں مارے گئے ہیں۔سالم زہران: وسام الحسن شامی افواج کے ہاتھوں مارے گئےلبنانی قلم کار "سالم زہران" نے اپنی ویب سائٹ میں بیروت دھماکے اور وسام الحسن کی ہلاکت کے کیس کے بارے میں لکھا: وسام الحسن بیروت دھماکے سے تین دن قبل شام میں، شامی افواج کی بمباری میں ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ان کے ساتھ اور لبنانی رکن پارلیمان عقاب صقر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق لبنان کی اندرونی سلامتی کے انٹیلجنس کے سربراہ وسام الحسن بیروت کے علاقے اشرفیہ میں ہونے والے مشکوک دھماکے میں نہیں بلکہ شام اور ترکی کی سرحدوں پر دہشت گردوں کے ٹھکانے میں مارے گئے ہیں جو شامی افواج کی بمباری کا نشانہ بنا تھا۔گوکہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ عقاب صقر بھی اس حملے میں مارے گئے ہیں لیکن ابھی تک اتنی سی بات سامنے آئی ہے کہ وہ زخمی حالت میں ہیں اور وہ ابھی تک حقائق بتانے سے پرہیز کررہے ہیں کیونکہ اگر وہ حقائق بیان کریں گے تو سعد الحریری کو شامی دہشت گردوں کے ساتھ صقر کے قریبی تعلق کا اعتراف کرنا پڑے گا۔ زہران کا کہنا ہے کہ وسام الحسن کی لاش بالکل خفیہ طور پر بیروت منتقل کی گئی تھے اور بیروت دھماکے کا ایک مطلب یہ بھی تھا کہ وسام کی شام میں ہلاکت کی پردہ پوشی کی جاسکے اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ اس دھماکے کی ذمہ داری شام اور لبنان میں شام کے حامیوں پر عائد کی جاسکے۔ عقاب صقر نے ایک لبنانی ٹی وی چینل کو مختصر سے انٹرویو میں وسام کی شام میں ہلاکت کے واقعے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شامی افواج کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ انھوں نے لبنان کی سیکورٹی فورسز اور ائیرپورٹ اہلکاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس خبر کی تردید کریں کہ وسام کی لاش باہر سے آکر موصول ہوئی ہے!!؛ بہرحال بعض رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ وسام کی لاش گاڑی کے وسیلے سے بیروت پہنچائی گئی تھی۔ادھر شام کے باغیوں کے ترجمان کرنل مقداد نے لبنان کے سعودی ـ صہیونی نواز دھڑے المستقبل کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اس نے آج تک فری آرمی کو ہر قسم کی مدد فراہم کی ہے۔ یاد رہے کہ فئواد سنیورہ اور سعد الحریری المستقبل دھڑے کی قیادت کررہے ہیں اور اپنی عدم مقبولیت کا ازالہ فرقہ واریت کا سہارا لے کر کررہے ہیں۔
کیا کرنل (یا بریگیٹئر) وسام کو شام نے مارا یا حزب اللہ نے؟اس سوال کا جواب دینا آسان ہے کہ وسام الحسن جو 2006 میں اپنے حالیہ منصب متعین کئے جانے کے بعد سے اب تک ٹخنوں تک ہی نہیں بلکہ کانوں تک لبنانیوں اور شامیوں کے خون میں ڈوبا ہوا تھا۔شام کے خلاف لڑنے والے دہشت گردوں نے کہا ہے کہ وسام کے کردار کا کوئي متبادل نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ شخص وسام امریکی، سعودی اور سعودی و قطری پشت پناہی میں ان خاص غیرملکی افراد میں سے ایک تھے جو شامی حکومت کے خلاف بہت زیادہ کردار ادا کرتے رہے ہیں۔وہ متحرک شخص تھے؛ کسی قانونی اور اخلاقی قید کا قائل نہیں تھے اور اسرائیل کے خلاف فتح حاصل کرنے والے مزاحمت کے نوجوانوں کو اسی شخص نے مختلف طریقوں سے تنگک کیا۔ لبنانی انٹیلجنس کے لئے خلیج فارس کی ریاستوں کی بے تحاشا مالی امداد، امریکی تربیت اور یورپی وسائل کی مدد سے انھوں نے اپنے ادارے کو حزب اللہ کے انٹیلجنس سسٹم کے بعد ملک کی دوسرے اہم سسٹم میں تبدیل کیا تھا۔ امریکہ کو وسام پر اعتماد تھا کیونکہ 2006 میں حزب اللہ کے ہاتھوں اسرائیل کی شکست کی تلافی کروانے کے لئے ان کو ہر قسم کی امداد فراہم کی۔ اور کہا گیا کہ ان کا ادارہ ایران، شام، اردن اور مصر کے اداروں کے لئے رقیب بن گیا۔لبنان میں تمام فریقوں کو معلوم ہے کہ وسام کا قتل لبنان میں مذہبی جنگ چھڑ سکتی ہے اور پوری دنیا جانتی ہے کہ لبنان میں مذہبی جنگ شام کے مفاد میں نہيں اور حزب اللہ کے مفاد میں نہيں ہے گوکہ حزب اللہ ان سے چھٹکارا پانے ک