23 اکتوبر 2012 - 20:30

گزشتہ دنوں ہندوستان کے سپریم کورٹ کے حکم پر سینئر صحافی سید محمد احمد کاظمی کو ضمانت پر رہا کر دیا گيا۔

ابنا: محمد احمد کاظمی کو دہلی میں صیہونی حکومت کے سفارتخانے کی گاڑی میں بم دھماکے کے بعد گرفتار کیا گيا تھا۔ انہیں دلی کے اسپیشل سیل نے انڈین اسلامک سنٹر سے نکلتے وقت مارچ میں گرفتار کیا تھا اس کے بعد سے احمد کاظمی پولیس کی حراست میں تھے۔ واضح رہے کہ تیرہ فروری کو دلی کی اورنگ زیب روڈ پر موثر سائیکل پر سوار ایک شخص نے صیہونی سفارتخانے کی ایک کار میں دھماکہ خیز مادہ نصب کیا تھا جس سے دھماکہ ہوا تھا اور اس دھماکہ میں کار میں سوار ایک صیہونی سفارتکار کی اہلیہ سمیت بظاہر چار افراد زخمی ہوئےتھے۔محمد احمد کاظمی ہندوستان کے ایک سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار ہیں اور جاننے والے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی شریف اور دیندار انسان ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی نجی زندگي میں ایک شریف اور نجیب انسان ہیں بلکہ صحافتی حلقوں میں بھی انہیں ایک معزز شریف اور پیشہ ورانہ امور پر مہارت رکھنے والے صحافی کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ہندوستان کے اندر بلکہ ملک سے باہر جا کر بھی رپورٹنگ کی ذمہ داریاں انجام دی ہیں اور وہ میڈیا کے اندر کھل کر صیہونی حکومت کے مظالم بیان کرتے تھے اور ہندوستان میں صیہونی حکومت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے تھے جس پر صیہونی حلقے کافی سیخ پا تھے اور انہوں نے حق کی اس آواز کو دبانے کے لیے ایک جھوٹا ڈرامہ رچایا اور اس میں محمد احمد کاظمی کو پھنسانے کی کوشش کی اور چونکہ وہ ریڈیو زاہدان اور ریڈیو تہران  کی اردو اور ہندی سروس کے لئے بھی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں اس لیے اس واقعہ میں ایران کے ملوث ہونے کا بھی الزام لگا دیا۔ لیکن ایران نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائيلی سفارتکار کی کار پر حملے میں جس طرح کے مقناطیسی بم کا استعمال کا گيا تھا وہ اسی طرح کا بم تھا جس طر‌ز کے بموں سے تہران میں کئي ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔محمد احمد کاظمی کی رہائی کا اس ملک کی سیاسی اور مذھبی جماعتوں سمیت صحافی برادری نے خیرمقدم کیاہے۔ جماعت اسلامی، سماج وادی پارٹی، صحافی برادری اوراعلی شخصیات نے محمد احمد کاظمی کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوۓ کہا ہے کہ جلد ہی ان پر عائد مقدمات مکمل طور پر ختم ہو جايئں گے۔ہندوستان جیسے ملک میں جو خود کو ایک سیکولر ملک کہتا ہے، ایک عرصے سے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں مسلمان ایک بڑی اقلیت سمجھے جاتے ہیں اور انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں لیکن اس ملک کی سیاسی جماعتیں ان کے ووٹ لینے میں تو دلچسپی رکھتی ہیں اور انتخابات سے قبل ان سے بہت سے وعدے بھی کیے جاتے ہیں لیکن انتخابات کے بعد وہی ڈھاک کے تین پاٹ ہی ہوتے ہیں اور مسلمان بے چارے اپنا ووٹ دینے کے بعد وعدوں کے وفا ہونے کا انتظار ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی حالت کے بارے میں سچر کمیشن کی رپورٹ بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے اور مسلمانوں نے اس رپورٹ پر عمل درآمد کے سلسلے میں بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ آج ہندوستانی مسلمانوں کے اندر اپنے مستقبل کے بارے میں مایوسی پائی جاتی ہے اور جس شعبے میں بھی دیکھیں مسلمانوں کی نمائندگی انتہائی کم نظر آتی ہے۔ تعلیم کا شعبہ ہو یا سرکاری ملازمت، سیاست کا میدان ہو یا کوئی اور شعبہ مسلمانوں کو اپنی آبادی کے لحاظ سے انتہائی کم نمائندگی حاصل ہے اور یہی چیز مسلمانوں کے اندر احساس محرومی کو زیادہ کر رہی ہے۔ہندوستان کی آزادی سے لے کر اب تک کانگرس پارٹی مسلمانوں کے ووٹوں کی دعویدار رہی ہے اور مسلمانوں نے اس پارٹی کو انتخابات میں ووٹ بھی دیے ہیں اور وہ مسلمانوں کے ووٹوں سے کئی مرتبہ مسند اقتدار پر براجمان بھی ہوئی ہے لیکن اگر تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو کانگرس پارٹی کا دامن بھی مسلمانوں کے مسائل کے حل کے حوالے سے خالی دکھائی دیتا ہے۔ بی جے پی جیسی اسلام اور مسلمان مخالف پارٹی کا ذکر ہی کیا کہ جس کی دشمنی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ ان حالات میں نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں بلکہ مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو تشدد آمیز سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بےبنیاد الزامات لگا کر ان کے مستقبل کو تاریک کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں محمد احمد کاظمی سمیت کئي مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔آج پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بعض جگہ علانیہ اور بعض جگہ غیرعلانیہ جنگ شروع کر دی گئی ہے جس کے پیچھے صیہونی لابی کارفرما ہے۔ ہندوستان کے ساتھ صیہونی حکومت کے تعلقات گزشتہ چند برسوں سے تیزی کے ساتھ بڑھے ہیں اور اسی تیزی کے ساتھ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک میں بھی اضافہ ہوا ہے اور انہیں پسماندہ رکھنے اور ان کے حقوق غصب کرنے کے عمل میں بھی تیزی آئی ہے۔ہندوستان میں اگر سیاسی عمل کا جائزہ لیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان کی بیس سے پچیس فیصد آبادی پر مشتمل ہونے کے باوجود پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔ جس کی وجہ سے پارلیمنٹ میں ان کی آواز مؤثر طریقے سے نہیں پہنچ پاتی جس کی وجہ سے ان کے حق میں قانون سازی بھی نہیں ہو پاتی۔ہندوستان کے غیرجانبدار حلقوں کا یہ ماننا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ ہو یا گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ، یہ ہندوستان کی تاریخ کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہندوستان جیسے سیکولر کہلائے جانے والے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ انہیں زندگي کے ہر شعبے میں ان کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی جائے۔ تاکہ ان میں احساس محرومی کا خاتمہ ہو۔ کیونکہ اگر اقلیتیں ترقی کریں گي تو اس سے ملک بھی ترقی کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ غیرملکی طاقتیں ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ گھناؤنا کھیل نہ کھیلیں اور محمد احمد کاظمی کی جھوٹے مقدمے میں گرفتاری جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔ہندوستان کے سینیئر صحافی محمد احمد کاظمی نے ضمانت پر رہائي کے بعد ریڈیو تہران سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے اپنی گرفتاری اور رہائی کے بارے میں کہا۔.....169