20 اکتوبر 2012 - 20:30

آزادیءبیان ، ھر قسم کے اور چند آوازہ اور ڈیمو کریٹک معاشرے کے لۓ بنیادی معیار ہے ، اور دور حاضر میں اسے انسان کے بنیادی حق کی حیثیت حاصل ہے.

ابنا: انسانی حقوق کے عالمی بیانیے کی 19 ویں شق میں آزادیء بیان کی جانب اشارہ ہوا ہے ، اور آیا ہے کہ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ خوف وھراس کے بغیر جس طرح چاہے اپنے اعتقادات بیان کرے ، لیکن تجربہ اس امر کا غمّاز ہے کہ مغرب میں آزادیء بیان کے حوالے سے جو نعرے لگاۓ جاتے ہیں وہ صرف زبان کی حد تک محدود ہیں ، جبکہ عملی طور پر ہم ھمیشہ دیکھتے آۓ ہیں کہ مختلف روشوں اور طریقوں سے حق پسندوں کی صداۓ حق بلند ہونے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی جاتی ہیں ، اسوقت دنیا بھر میں ھزاروں سیٹلائٹ چینلز سرگرم عمل ہیں ، جن میں سے زیادہ تر نظریات سلیقوں ، اور افکار کی ترویج کر رہے ہیں ، اوردوسروں کو ہر طرح کی خبریں اور معلومات فراہم کر رہے ہیں ،لیکن مغرب میں اطلاعات اور افکار ونظریات کی اشاعت اس وقت تک آزاد ہے کہ جبتک مغربی حکام اور مغربی حکومتوں کو ، ان سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو ، اور انکی حکومتوں کے خفیہ مقاصد کے لۓ خطرے کی گھنٹی نہ ہو ، بنابرایں آزادذرائع ابلاغ اور مغرب کی پالیسیوں کے مخالف میڈیا تسلط پسند نظام کے لۓ خطرہ شمار ہو تے ہیں ، اور مغربی سربراہ ، انکی آوازوں اور تصاویر کو نا بود کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ، اور مخاطبین کو ان تک رسائی سے محروم کر دیتے ہیں – آزادئ بیان کے خلاف مغربی حکومتوں کے نۓ اور تازہ اقدامات میں یوٹل سٹ سٹیلائٹ چینل کمپنی نے اسلامی جمھوریہ ایران کے ٹی وی چینلوں کے پروگراموں کو ھاٹ برڈ سٹیلائٹ سے نشر کرنے پر پابندی لگادی ہے - یورپ سیٹلائٹ سروسز کمپنی ، آر، کیو، اے  نے اعلان کیا ہے کہ یوٹل سٹ  نے اس کمپنی کو حکم دیا ہے کہ15 اکتوبر سے ایرانی ٹی وی کے پروگراموں کو ھاٹ برڈ سے نکال دے - آر، کیو ، اے ، نے پریس ٹی وی چینل کو ایمیل کے ذریعے بتایا کہ یورپی یونین کونسل نے یہ فیصلہ کیا ہے -  یوٹل کمپنی کے ایک عھدیدار  کیرن بیڈالوف ، نے پریس ٹی وی  سے کہا کہ ھم نے سمجھوتے منسوخ کر دیئے کیونکہ یہ یورپی کمیشن کا حکم تھا ، جسے ہمکو مجبورا انجام دینا پڑا – دوسری جانب آر  کیو  اے کمپنی کے تعلقات عامہ کے سربراہ ، گیری فالوز ، نے  پریس ٹی،وی سے کہا کہ یورپی یونین کونسل کی عائد کردہ پابندیوں کے نتیجے میں اور یوٹل سٹ کے بار بار کےاس مطالبے کے باعث کہ اسلامی جمھوریہءایران کےسحر چینل کے پروگراموں کو ھمیشہ کے لۓ منقطع کر دیا جاۓ ، اس لۓ ایرانی ٹی وی پروگراموں کو یوٹل ہاٹ برڈ سیٹلائٹ سے ختم کر دیا گیا-  جن ایرانی چینلوں کے پروگراموں پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں پریس ٹی وی ، العالم ، جام جم 1،2، سحر 1، 2، نیوز چینل ، قرآن چینل ، عربی زبان چینل الکوثر ، اور اسی طرح بعض ریڈیو اکسٹرنل سروسز کی بھی نشریات پر پابندی لگادی گئی  ہے –یہ  ایسی حالت میں ہے کہ اسلامی جمھوریۂ ایران کے ریڈیوو ٹی وی ، اکسٹرنل  سروسز کے سربراہ ڈاکٹرمحمدسرافراز اس بارے میں کہتے ہیں ، ایران کے ریڈیو  ٹی ،وی، کی  یوٹل سٹ کے ساتھہ طولانی مدت سمجھوتے  کا 20سال کا ریکارڈ تھا ، اور یہ سمجھوتہ 5 سال اور 10 سال پر بڑھایا جانا تھا-  ابھی اس سمجھوتے کی مدت باقی تھی کہ ایران کے ریڈیو اور ٹی وی  کے 19 چینلوں کے پروگراموں کی نشریات بند کرنے کا سیاسی فیصلہ کیا گیا -یوٹل سٹکی جانب سے یہ اقدام یورپی سیٹلائٹ کمپنیوں کی جانب سے ایرانی چینلوں کی لہروں پر مہینوں پارازیٹ بھیجنے کے بعد انجام دیا گیا ، ایرانی اکسٹرنل چینلوں کو اپنے پروگرام نشر کرنے میں اس لۓ مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، کیونکہ وہ تسلط پسند نظام کی خواہش کے بر خلاف مغربی حکومتوں اور غاصب صہیونی حکومت کی رسوائیوں اور جرائم سے متعلق خبروں کو کوریج  دیتے ہیں ، لیکن پہلے بھی صہیونی اور مغربی حکومتوں کے اقدامات مخالف نظریات نشر کرنے پر پابندی تھی  اور علاقہ  میں اسلامی تحریکوں کے آغاز اور اسلامی بیداری کے عروج پر پہنچنے سے پہلے  العالم اور پریس ٹی وی  چینلوں کی فریکینسیوں پر پارازیٹ بھیجا جاتا تھا - کئی سال قبل بھی عراق پر امریکہ کے حملے اور غاصبانہ قبضہ  اور اسی طرح غزہ اور لبنان پر غاصب صہیونی حکومت کی جارحیت کے دور میں ایرانی چینل العالم کی نشریات کو مکمل غیر قانونی طور پر عرب سٹ ، اور نائل سٹ  سیٹلائٹوں سے ہٹا دیا گیا  تاکہ  صداقت پر مبنی خبریں دنیا تک پہنچانے کا سلسلہ جاری نہ رکھہ سکے -ایران کے سیٹلائیٹ چینلوں کے خلاف یورپی سیٹلائیٹ کمپنیوں کا اقدام ہر چیز سے زیادہ اس بات کا آئینہ دار ہے کہ یورپ اپنے دعوؤں کے برخلاف آزادی بیان کا احترام نہیں کرتا اور اپنے مخالف ذرائع ابلاغ کی آواز دبانے کے درپے ہے ۔ جنوری 2012 کے اواخر میں بھی ایک تعجّب آور اقدام کے تحت اور بغیر کسی دلیل کے پریس ٹی وی نیوز چینل کو برطانیہ کے مواصلاتی دفتر (افکام) کا خط موصول ہوا جس میں اعلان کیا گیا کہ پریس ٹی وی نیوز چینل کا پرمٹ منسوخ کردیا گیا ۔ افکام اور برطانیہ کے شاہی خاندان کے درمیان قریبی تعلقات برقرار ہیں اور دسمبر 2011 میں بھی برطانیہ کے اندرونی مسائل سے پردہ اٹھانے کی وجہ سے پریس ٹی وی نیوز چینل پر دباؤ ڈالنے کے مقصد سے اس   نیوز چینل پر ایک لاکھ پونڈ کا جرمانہ کیا گیا ۔ ناروے کے اوسٹن ریڈیو نے یوٹیل سیٹ کمپنی کے اس اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس اقدام کو صہیونی ریاست کی لابی کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ۔ اس ریڈیو نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ پریس ٹی وی نیوز چینل یورپ و افریقہ اور ایشیاء میں بہت زیادہ مقبول ہے اور ایران کے دیگر ٹی وی چینلوں منجملہ العالم کی مانند عوام میں بہت زیادہ دیکھا جاتا ہے اور علاقائی حالات کے حوالے سے مغربی اور عربی شخصیات کو تبصروں کی دعوت دیتا ہے اور حالات کا حقیقت پر مبنی جائزہ لینے کے حوالے سے معروف ہے ، اس ریڈیو نے ایرانی چینلوں کے خلاف یوٹیل سیٹ کمپنی کے فیصلے کو ایک سیاسی فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات نے مغرب میں آزادی بیان کے حوالے سے دعوؤں کو پہلے سے کہیں زیادہ مضحکہ خیز ظاہر کردیا ہے ۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یورپی یونین ازادی بیان کے احترام کی قائل ہی نہیں ہے اور مخالف ذرائع ابلاغ کی آواز دبانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتی ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے ریڈیو و ٹیلی ویژن کے ادارے کے سربراہ سید عزت ا۔۔۔ ضرغامی نے براعظم ایشیاء اور اسٹریلیا کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی یونین کے اجلاس میں آزادی بیان کے بارے میں مغرب کے رویے میں پائے جانے والے تضاد کا ذکر کرتے ہوئے ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ ہمارے دور کی کتنی ستم ظریفی ہے کہ ذرائع ابلاغ کہ جو پریس ٹی وی جیسے غیر جانبدار چینلوں کے پیغام کو تو سینسر کرتے ہیں اور گذشتہ ماہ عالم اسلام کی سب سے عظیم شخصیت حضرت محمدۖ کی شان اقدس پر ہونے والی توہین پر خاموش بیٹھے ہیں اور سینسر سے بچنے کے نام پر یوٹیوپ چینل پر عظیم الہی پیغمبرۖ کی شان میں توہین اور گستاخی پر مبنی فلم نشر کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتے ۔ تعجب اس بات پر ہے آزادی بیان کے خلاف یورپی یونین کے اس اقدام کے ساتھ ہی یورپی یونین کو 2012 کے لئے امن کے  نوبل انعام کا حقدار قرار دیدیا گیا اور اس کے ساتھ ہی اس نوبل انعام کے حوالے سے بحث و مباحثہ کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا ہے ، کیونکہ امن کے نوبل انعام کی کمیٹی کے بیان میں آیا ہے کہ براعظم یورپ کو متحد کرنے اور امن و آشتی و ڈیموکریسی کے فروغ اور یورپ میں انسانی حقوق کی ترویج کے سلسلے میں کوشش کرنے کی بنا پر یورپی یونین کو اس انعام کا حقدار قرار دیا گیا ہے ۔ اکثر افراد امن کی نوبل انعام کی کمیٹی کے اس فیصلے کو سننے کے بعد حیرت زدہ رہ گئے اور اس اقدام کو اس انعام کے بے توقیر ہونے کا باعث قرار دیا اور اس حوالے سے بعض نے تو یورپی یونین کی عدم لیا قت کا حوالہ بھی دیا ہے ۔ لیکن یورپی یونین کی جانب سے ایران کی ایکسٹرنل سروس کے ٹیلی ویژن چینلوں کو بند کیا جانا ، یورپی یونین کے اس اقدام کے مخالفین کے ان بیانات کا آئینہ دار ہے کہ جن میں وہ کہتے ہیں کہ مغرب کے آزادی بیان اور انسانی حقوق کے نعروں کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور اس سے امید لگانا فضول ہے ، کیونکہ عمل سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اہم ذرائع ابلاغ صرف ان لوگوں کے اختیار میں قرار پاتے ہیں کہ جو ان ملکوں کی پالیسیوں اور مواقف کے حامل ہوں ، بہرحال اسلامی جمہوریہ ایران کے ریڈیو و ٹیلی ویژن کی ایکسٹرنل سروس کے سربراہ ڈاکٹر سرفراز بند کیئے گئے ایرانی چینلوں کی نشریات کے جاری سلسلے کے بارے میں کہتے ہیں یوٹیل سیٹ سے جو ٹیلی ویژن چینلز بند ہوئے ہیں دیگر سیٹلائیٹ کے ذریعے دیکھی جاسکتے ہیں اور اسی طرح سماجی چینلز ، کیبل چینلز اور موبائل فون کے ذریعے ایرانی ٹی وی چینلوں کی نشریات دیکھی جاسکتیں ہیں انہوں نے اس نکتے پر تاکید کی کہ ایران کے ذرائع ابلاغ کے خلاف ماضی میں مغرب کے اس طرح کے اقدامات کےباعث ایرانی ٹیلی ویژن چینلوں کے دیکھنے والوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے ریڈیو و ٹیلی ویژن کے ادارے کے سربراہ سید عزت ا۔۔۔ ضرغامی نے براعظم ایشیاء اور اسٹریلیا کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی یونین کے اجلاس میں وضاحت کی کہ سینسر اور اطلاعات و معلومات کا تبادلہ رو کنے کا وقت اب ختم ہوچکا ہے اور جدید قسم کے امکانات کے حامل ذرائع ابلاغ منجملہ پریس ٹی وی اور العالم کو دنیا میں موجود چینلوں سے حذف نہیں کیا جاسکتا اور اس و‍قت بھی لاکھوں کروڑوں افراد دنیا کے گوشہ وکنار میں ان دو چینلوں کی نشریات انٹرنیٹ سائٹز کے ذریعےدیکھ رہے ہیں اور تازہ ترین خبروں سے آشنا ہورہے ہیں ۔

.....

/169