ابنا: جمعہ کو ہندوستان کي سپريم کورٹ نے معروف صحافي محمد احمد کاظمي کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم ديا تھا جس کے بعد سنيچر کي رات نو بجے وہ دہلي کي تہاڑ جيل سے باہر آئے جہاں ہزاروں کي تعداد ميں ان کے چاہنےوالوں اورحاميوں نے ان کا شاندار استقبال کيا محمد احمد کاظمي کو جلوس کي شکل ميں درگاہ شاہ مردان لے جايا گيا جہاں انہوں نے اپنے خطاب ميں کہا کہ وہ بے قصور ہيں اور ان کے خلاف لگائے گئے دہلي پوليس کے سارے الزامات بے بنياد ہيں - انہوں نے اس عزم کا اعلان کيا کہ وہ ملک کي مختلف جيلوں ميں بند بے گناہ نوجوانوں کي رہائي کے لئے لڑائي لڑيں گے -جس وقت محمد احمد کاظمي کو دہلي کي تہاڑ جيل سے رہا کيا گيا اس وقت ان کے استقبال کےلئے بڑي تعداد ميں اہم مذہبي، ملي ، سماجي صحافتي اور سياسي شخصيات بھي وہاں موجود تھيں جن ميں مولانا کلب جواد نقوي ، دہلي کے ممبر اسمبلي آصف خان ، آل انڈيا مشاورتي کونسل کے سربراہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان ، مجتبي فاروق ، سينئر صحافي جاويد نقوي اور محمد احمد کاظمي کے وکيل محمود پراچہ وغيرہ شامل تھے - جلوس کے شرکاء ہندوستان زندہ باد احمد کاظمي زندہ باد اور اسي طرح امريکا مردہ باد اور اسرائيل مردہ باد کے نعرے لگارہے تھے -واضح رہے کہ دہلي پوليس نے گذشتہ چھ مارچ کو معروف صحافي محمد احمد کاظمي کو تيرہ فروري کو اسرائيلي سفارتکار کي گاڑي پر ہونے والے حملے کے الزام ميں گرفتار کرليا تھا - محمد احمد کاظمي کي گرفتاري کے خلاف دہلي سميت ہندوستان کے مخلتف شہروں ميں مظاہرے کئے گئے تھے - مذکورہ بم حملے کي ذمہ داري صہيوني ریاست نے ايران پر عائد کي تھي جبکہ اسلامي جمہوريہ ايران نے اس الزام کو سختي کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا تھاکہ يہ حملہ خود اسرائيل نے ہي کرايا ہے - ايران نے کہا تھاکہ دہلي ميں کيا جانےوالا يہ حملہ اسي نوعيت کا ہے جس طرح کے حملے ميں اسرائيلي ايجنٹوں نے تہران ميں ايران کے ايٹمي سائنسدانوں کو شہيد کيا ہے. .....
/169