14 اکتوبر 2012 - 20:30

عبدالعزيز کے باقیماندہ بیٹے "طلال"، "احمد"، "مقرن"، "ترکی"، اور "ممدوح" تخت پر قابض ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہيں اور باقی افراد یا اپنا وقت اسپتالوں میں گذار رہے ہیں یا پھر حکومت کے مسائل کو اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔

ابنا: طلال بن عبدالعزیز نے پے درپے حماقتوں کی وجہ سے اپنے تمام کارڈ جلادیئے ہیں اور اپنا خاندان اور قوم ہاتھ سے دے چکے ہیں؛ مقرن کا رنگ کالا ہونے کی وجہ سے وہ احساس کمتری میں مبتلا ہیں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ حکمرانوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ وزير داخلہ "احمد" بھی بہت ہی کمزور شخصیت کے مالک اور فیصلہ کرنے میں نہایت بزدل ہیں؛ اسی وجہ سے ان کے بھتیجے محمد نے انہیں اپنی ہی وزارت میں ایک طرف لگا دیا ہے اور خود بیشتر اختیارات کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ "ترکی"، "سطام"، اور "ممدوح" کو اگر ولیعہدی کی پیشکش کی جائے تو وہ فوری طور پر ماننے کے لئے تیار ہیں لیکن وہ اس منصب کے لئے لڑنا نہيں چاہتے۔ خاندان آل سعود میں غیراعلانیہ آداب و روایات کے مطابق، عبدالعزیز کا کوئی بھی پوتا سلطنت کے بارے میں حتی سوچنے اور بات کرنے کا حق بھی نہيں رکھتا؛ ان کے لئے اس حوالے سے کوئی موقع فراہم نہیں ہے مگر یہ کوئی حیلہ گری کریں یا پھر ہتھیاروں کے زور سے کچھ کرنا چاہیں۔عبدالعزیز کے پوتوں میں "خالد بن سلطان"، "محمد بن نائف" اور "متعب بن عبدالله" سب سے طاقتور شہزادے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ طاقت کے سہارے اپنے آپ کو دوسروں پر ٹھونس دیں کیونکہ ان تینوں کے پاس فوجی ادارے ہیں۔ خالد بن فیصل کے امریکیوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ امریکیوں کو یقین دہانی کرنے میں مصروف ہیں کہ وہ سعودی عرب کو امریکیوں کی خواہش کے مطابق تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے التویجری اور دوسرے امریکہ نواز شہزادوں کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں؛ محمد بن فہد بھی خفیہ طور پر بعض طاقتوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں اور انہیں وعدہ دے چکے ہیں کہ اگر وہ شاہی تخت پر قبضے میں ان کی حمایت کریں تو وہ انہیں بلادالحرمین میں زیادہ سے زیادہ اثر و نفوذ دیں گے اور انہیں طاقتور بنائيں گے۔ ولید بن طلال بھی شدت سے مغرب کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ سعودی حکومت میں وہ سب سے زيادہ طاقتور شخصیت ہیں اور وہ بلادالحرمین میں عوام، قبائل اور شہزادوں کو پیسے دے کر خریدنے میں مصروف ہیں۔عبدالعزیز بن فہد کو میں (مجتہد) نے کافی حد تک رسوا کردیا اور اس کو مختلف شعبوں میں شدید ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا حتی کہ بادشاہ کے دفتر سے بھی انہیں بے دخل کیا گیا لیکن اس کے باوجود وہ اب بھی سوچ رہے ہیں کہ وہ اپنی اربوں ڈالر کی دولت سے خاندان آل سعود میں اپنی کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ .....

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

گھر کے بھیدی کے انکشافات: سعودی بادشاہ کی عمر 94 سال ہے/ ولیعہد الزہائمر میں مبتلا ہیں