اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے بعض افراد کی جانب سے انقلاب اسلامی سے منہ پھیر لینے اور قافلہ انقلاب کی حرکت نہ رکنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بعض افراد تھکاوٹ کے احساس،یا اپنے ماضی میں شک و تردید یا دشمن کی مسکراہٹ پر فریفتہ ہونے جیسےمختلف دلائل کی وجہ سے انقلاب کے راستے سے خارج ہوگئے لیکن ان کے مقابلے میں شہیدوں کے خون کی برکت سے نئی نسل پیدا ہوگئی ہے جس نے پورے ملک کو استقامت، عزت اور ثبات کے جذبے سے سرشار کردیا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےفرمایا: اگر ایک دور اور زمانے میں سپاہ اسلام محاذ جنگ پر خط شکن تھی تو آج منہ زور اور تسلط پسند طاقتوں کے مقابلے میں خط شکن جوان نسل پیدا ہوگئی ہے جس نے دفاع مقدس، شہداء اور حضرت امام خمینی(رہ) کے دور کو نہیں دیکھا ہے۔
رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے صاحبان فکر کو انقلاب کے ساتھ ملحق ہونے والی عظیم نسل اور انقلاب سے خارج ہونے والوں کے درمیان موازنہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: موجودہ جوان نسل کا عزم و آگاہی اگر دفاع مقدس کے دور کے جوانوں سے زیادہ نہ ہو تو کم نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: آج ہمارے معاشرے میں شجاع ، آگاہ، موجودہ حقائق سے آشنااور مختلف سیاسی مسائل پرمسلط جوانوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو انقلاب اسلامی سے والہانہ محبت اور دلبستگی رکھتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے جوان نسل کے بارے میں بعض افراد کی غلط قضاوت اور تشویش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس غلط قضاوت کے برعکس ملک کی جوان نسل مؤمن ہونے کے ساتھ انقلاب اور شہیدوں کی راہ پر گامزن ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شہیدوں ، جانبازوں اور جاں نثاروں کے اہلخانہ کے صبرو استقامت پر انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا: پوری قوم کو شہیدوں کے اہلخانہ کا شکر گزار ہونا چاہیے اور شہیدوں کی اولاد کو بھی اپنے والدین کی گرانقدر میراث کو فخر کے ساتھ آئندہ نسل کے حوالے کرنا چاہیے۔
اس ملاقات کے آغاز میں شہید کے باپ اور صوبے کے ممتاز شاعر جناب داراب بدخشان، جانباز حسین سقائی، شہید خلیل اللہ بہاری کی بیٹی صدیقہ بہاری نے دفاع مقدس کے بارے میں اشعار پیش کئے۔
اسی طرح شہید اور جانباز فاؤنڈیشن کے سربراہ جناب زریبافان نے خراسان شمالی صوبے کے شہداء اور جانبازوں کے اہلخانہ کی نمائندگی میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کو خوش آمدید کہا۔
.....
/169